دورۂ قادیان 1991ء — Page 81
81 تلقین فرمائی اور فرمایا:۔یہ اخلاق آئندہ تاریخ کی بنا ڈالنے والے ہیں۔آپ حضرت محمد مصطفی میلہ کے غلام ہیں۔اس کے ساتھ صاحب کوثر کے غلام بھی ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے عاجز مزدور ہونے کی حیثیت سے اس خدمت میں شرکت کریں۔مقبول دعاؤں کا بجز کے ساتھ گہرا ربط ہے۔بجز ایک لاشئی کا نام ہے۔جس انسان پر خدا کی عظمت کا جلوہ ظاہر ہو اُس کے اندر حقیقی معنوں میں بجز پیدا ہوتا ہے۔اس عجز کے نتیجہ میں دعاؤں کا اعجاز ظاہر ہوتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا سکھائی تھی کہ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص:۵۲) اس دعا میں صرف اپنے نفس کے لئے خیرو برکت مانگی گئی تھی لیکن حضرت رسول کریم ﷺ نے ہمیں جو دعا سکھائی تھی وہ : اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ:۵) کی تھی۔اس میں تمام بنی نوع انسان جو موحد ہیں ان کو شامل کر لیا تھا۔“ آخر میں حضور انور نے فرمایا: خدا تعالیٰ نے اس جلسہ میں بہت برکتیں مخفی رکھی ہیں اس لئے بہت بجز کے ساتھ دعاؤں کی ضرورت ہے۔“ اس کے ساتھ ہی حضور انور نے دعا کرائی ہتمام کارکنان جلسہ سے مصافحہ فرمایا اور دفتر میں تشریف لے آئے جہاں دفتری اور متفرق انفرادی ملاقاتیں کیں۔بعد ازاں آپ مکرم چوہدری انورحسین صاحب امیر جماعت ہائے ضلع شیخوپورہ کی عیادت کیلئے دارالضیافت میں تشریف لے گئے۔اُن کی طبیعت ایک دو روز سے علیل تھی۔اسی طرح مکرم چوہدری عبدالرحمن صاحب ایڈووکیٹ صدر قضا بور ڈ ر بوہ کی والدہ محترمہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ تھیں، آپ نے اُن کی بھی عیادت فرمائی۔نماز مغرب وعشاء حضور انور کی اقتداء میں مسجد اقصیٰ میں ادا کی گئیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد آپ مسجد میں ہی تشریف فرما ہوئے اور مجلس عرفان کا انعقاد ہوا۔اس سے قبل آپ نے مکرم محمد