دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 78 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 78

78 تھی اس میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔اب میں جو کھڑا ہوا ہوں جوابی تقریر کے لئے نہیں صرف وضاحت کے لئے کہ کیوں یہ طرز عمل میں نے اختیار کیا۔ہم میں سے ہر شخص زندگی کے ہر پہلو میں مسافر ہے۔آخری سفر اللہ کی راہ میں سفر ہے۔اس راستے میں بہت سارے رہزن ہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ نَعُوذُ باللهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِلا کر نفس کی تمام شرارتوں سے اور اپنے اعمال کی تمام برائیوں سے ہم خدا تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔اس سے بڑی پناہ کوئی اور نہیں ہوسکتی۔نفس کی انانیت بہت بڑا دشمن ہے۔اس دشمن سے پناہ مانگے بغیر یہ سفر کامیاب نہیں ہوسکتا۔اس سفر میں سب سے زیادہ روکیں اُس کے اپنے نفس کی طرف سے عائد ہوتی ہیں۔سپاسنامہ وہی ہے جسے خدا کے حضور پیش کیا جائے۔سب تعریفیں صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہونی چاہئیں صرف وہی تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ یہ پیغام آپ کے دل میں جاگزیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے خدا کی جانب کے سفر کو آسان کر دے۔آمین اس کے بعد حضور انور نے لمبی دعا کرائی بعد ازاں نماز مغرب وعشاء کے لئے اذان کہی گئی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد مجلس عرفان کا انعقاد ہوا۔یہ مجلس علم و عرفان ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔۲۲ / دسمبر ۱۹۹۱ء بروز اتوار۔قادیان حضور نے نماز فجر چھ بج کر بیس منٹ پر مسجد اقصی میں پڑھائی۔بعد ادائیگی نماز فجر سات بجے کے قریب حضور پر نور حسب معمول بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر اور دیگر قبروں پر دعا کرنے کے بعد واپس دار اسیح تشریف لے آئے۔نو بجے آپ دفتر تشریف لائے اور دفتری امور انجام دینے کے بعد دس بجے کارکنان جلسہ سالانہ کے معائنہ اور مصافحہ کیلئے دارا مسیح میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لائے۔سب سے پہلے آپ