دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 74 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 74

74 کے خلیفہ کا پہلا مبارک سفر ہے۔ہم دل کی گہرائیوں سے حضور کی خدمت میں اهلا و سهلا و مرحبا کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دست به دعا ہیں کہ حضور کے اس سفر کو جماعت احمد یہ نیز ہندوستان کے لئے بے شمار خیر و برکت کا موجب بنائے اور تا اختتام سفر ہر گام پر فرشتوں کا نزول رہے اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حضور کے شامل حال رہے۔اے آمدنت که باعث آبادی ما اے ہمارے محبوب آقا اور اسے قدرت ثانیہ کے مظہر رابع ! ۱۰ جون ۱۹۸۲ء کو اللہ تعالیٰ نے حضور کو مسند خلافت پر متمکن فرمایا اور آج حضور کی مؤید من اللہ قیادت پر صرف ۹ سال کا عرصہ گزرا ہے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور اسکی نصرتوں کی لہر در ہر موجوں پر سے گزرتے ہوئے جماعت احمدیہ نے دہاکوں کا سفر طے کر لیا ہے۔اے خلیفہ برحق ! اللہ تعالیٰ نے حضور کے دور خلافت کو بعض ممتاز خصوصیات سے نوازا ہے۔پہلی خصوصیت یہ عطا ہوئی کہ حضور کے عہد خلافت کے اس نوسالہ عرصہ میں ۱۹۸۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی ماموریت پر سو سال پورے ہوئے۔۱۹۸۶ء میں پیشگوئی مصلح موعود پرسوسال پورے ہوئے۔۱۹۸۹ء میں جماعت احمدیہ کے قیام پر سوسال پورے ہوئے اور ساری دنیا میں عظیم الشان صد سالہ جشن تشکر منایا گیا۔۱۹۹۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ مسیح موعود پر سوسال پورے ہوئے۔نیز اسی سال ہجری سن کے لحاظ سے سورج چاند گرہن کے عظیم الشان نشان پر سوسال پورے ہوئے اور اب جلسہ سالانہ کے قیام پر سو سال پورے ہونے پر جماعت احمد یہ اپنے محبوب امام کی قیادت میں داگی مرکز سلسلہ قادیان میں سوسالہ جلسہ سالانہ کا انعقاد کرنے کی توفیق پارہی ہے۔جس میں حضور کی خاص شفقت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوصحابی اور ایک صحابیہ بھی رونق افروز ہیں فالحمد لله وذلك فضل الله يوتيه من يشاء۔دوسری خصوصیت یہ عطا ہوئی کہ سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے خلل کامل اور روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت میں حضور نے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق دنیا بھر کے معاندین اور مکفرین کو دعوت مباہلہ دی اسکے نتیجہ میں دنیا نے ایک بار پھر حضرت مسیح