دورۂ قادیان 1991ء — Page 70
70 تفصیل سے جاری رہنا ، جاری رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا بڑا ضروری ہے۔پس ان تمام فسادات سے بچنے کے لئے اور اس دیر پا دُور رس اور اعلیٰ نیت کے ساتھ کہ نظام جماعت کی حفاظت اور صالحیت کے لئے یہ باتیں ضروری ہیں۔جہاں بھی آپ رہیں گے وہاں ایک امیر بنا کے ان تمام باتوں پر نظر رکھئے جو ایسے بڑے اجتماعات میں حادثوں یا شرارتوں کی صورت میں رونما ہو سکتے ہیں۔ان کی پیش بندی کے لئے ترکیب سوچئے ، سامان پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں، کوئی آئے گا کیسے داخل ہوگا ، اس کو اگر روکا جائے تو شرارت کا احتمال نہ ہو، یہ ساری باتیں ہیں جن میں توازن پیدا کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے اگر بیدار مغزی سے پہلے ہی متنبہ ہوں تو پھر آپ ایسا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ہمیں جلسے کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق بخشے۔مقامی درویشوں پر بہت بڑا بوجھ ہے۔بعض کے گھر اس طرح بھرے ہیں اور بھرنے والے ہیں کہ باہر سے آدمی دیکھے تو سوچ نہیں سکتا کہ اس گھر میں سے اتنے افراد نکلیں گے۔آج کل تو مرغی خانے کا نظام اور طرح ہو گیا ہے۔پرانے زمانے میں خصوصاً پنجاب میں چھوٹے چھوٹے دڑبے رکھے جاتے تھے اور ان میں قطع نظر اس کے کہ اتنی سانسوں کی گنجائش بھی ہے کہ نہیں ، زمیندار مرغیاں کھسیڑ تا چلا جاتا تھا۔حتی کہ آخر پر مشکل سے دروازہ بند کر دیتا تھا۔یہ اللہ کی شان ہے کہ ایسی حالت میں مرغیاں بچ جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں میں نے دیکھا کہ ایک دربا کھلا تو اس میں اتنی مرغیاں نکلیں گھبرائی ہوئی اور پریشان کہ یقین نہیں آتا تھا کہ اس چھوٹے سے دڑبے میں سے نکل رہی ہیں لیکن یہ صرف مرغیوں کی دنیا کی بات نہیں ہے۔احمدی جلسے میں ہر گھر مرغا خانہ بن جاتا ہے اور بعض دفعہ مہمان نکلتے ہیں اور اتنے نکلتے ہیں کہ انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ کیسے اس میں سما گئے تھے؟ مگر دل کو خدا تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی ہے ، ایثار کے جذبے عطا کئے ہیں، محبت عطا کی ہے۔اس کے نتیجے میں یہ سب انہونی باتیں ہو کر رہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ محبت اور پیار کے انداز میں ان مشکل تقاضوں کو پورا کریں اور شوق سے اور پیار سے پورا کریں ، لطف اٹھاتے ہوئے پورا کریں نہ کہ تکلیف محسوس کرتے ہوئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔