دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 67 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 67

67 کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے جس حد تک بھی توفیق ملے۔جو انسانی کمزوریوں اور بشری بے بسی کے نتیجے میں کمزوریاں لاحق ہوتی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ایسی صورت میں مجھے اللہ تعالیٰ سے بھاری امید ہے کہ ایسے لوگوں سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔ان کی کمزوریوں سے صرف نظر فرمائے گا، ان کے گنا ہوں کو بخشے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے سب سے محبوب اور سب سے محبوب مطلوب سے یہ پیار کرنے والے ہیں۔اور اگر اپنے کسی محبوب سے کسی کو پیار ہوتو لا زما اس کی کمزوریوں سے بھی انسان صرف نظر کرنے لگ جاتا ہے اور بہت سی باتیں اس کی برداشت کر جاتا ہے جو دوسروں کی نہیں کر سکتا۔پس خدا سے مغفرت پانے کا بھی یہی ایک ذریعہ ہے۔اس وسیلے سے تعلق قائم کریں اور اس وسیلے کی خاطر آپ اس کے اور بنی نوع انسان کے درمیان وسیلہ بن جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آج کے خطبے کی آواز دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچ رہی ہے اور اس ضمن میں جسوال برداران کا دعا کی خاطر ذکر کرنا چاہتا ہوں، خصوصاً وسیم جسوال صاحب کی غیر معمولی محنت اور کوشش کے نتیجے میں آج یہ سامان مہیا ہوئے ہیں کہ آج یہاں کے خطبے کی آواز انگلستان پہنچے۔پھر انگلستان سے سیٹلائٹ کے ذریعہ دنیا کے مختلف ممالک میں مشرق و مغرب میں۔اور جاپان تک بھی پہنچے نی میں بھی پہنچے ، ماریشس میں بھی پہنچے، یورپ کے ممالک میں بھی پہنچ جائے۔غرضیکہ جہاں جہاں بھی جس جماعت کو توفیق ہے کہ خطبہ سننے کے انتظامات کر سکے ان تک یہ آواز آج براہ راست پہنچ رہی ہے۔اس پہلو سے یہ ایک عظیم تاریخی دن ہے کہ آج قادیان سے محمد مصطفی امیہ کے کامل غلام کے ایک ادنی غلام کی آواز ، آپ ہی کی آوازیں بن کر تمام عالم میں پھیل رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سعادت کے نتیجہ میں ہمیں مزید شکر گزار بندے بنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس شکر گزاری کا آغاز اس بات سے ہونا چاہئے کہ جو لوگ اس بات کیلئے سعادت کا ذریعہ بنے ان کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں۔صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے ہیں جنہوں نے ان انتظامات میں بہت ہی کوشش اور بہت ہی محنت کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔قادیان کے جلسے کے انتظامات رسمی طور پر تو شاید کل یا پرسوں شروع ہوں گے۔لیکن ان