دورۂ قادیان 1991ء — Page 57
57 سے برکت نہ پاتے تھے۔پس نظام برکت ایک روحانی نظام ہے اس کے لئے ہر انسان کو اہلیت پیدا کرنی چاہئے۔جس طرح دنیا میں ایک نظام انہضام ہے، جب تک نظام انہضام درست نہ ہو قطع نظر اس بات کے کہ غذا اچھی ہے یا بری ، انسان کو اس غذا سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ایک شخص جس میں بعض اچھی غذاؤں کو ہضم کرنے کی طاقت ہی نہ ہو، بعض دفعہ جب وہ ایسی غذا استعمال کرتا ہے تو رد عمل پیدا ہوتا ہے اور فائدے کی بجائے نقصان پہنچتا ہے۔دودھ کو دیکھئے، کیسی کامل غذا ہے کہ دواڑھائی سال تک بچہ مکمل طور پر محض دودھ پر پلتا ہے اور اسی سے اپنی آنکھیں بناتا ہے، اپنے دانت بنانے کی تیاری کرتا ہے ، جسم کا ہر عضلہ اسی دودھ سے پرورش پاکر بنتا ہے ہڈیاں بن رہی ہیں ، ناخن بن رہے ہیں، بال بن رہے ہیں، تمام جسم کے اعضاء خواہ کسی نوعیت کے ہوں اسی ایک دودھ سے قوت پا کر نشو ونما پاتے چلے جاتے ہیں لیکن جن کو دودھ کی الرجی ہو، جو دودھ ہضم نہ کرسکیں ، وہ جب دودھ پیتے ہیں تو مرنے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔مجھے چونکہ ہو میو پیتھک علاج کا تجربہ ہے اس لئے بعض مریض میرے سامنے ایسے بھی لائے گئے۔مثلاً انگلستان میں ایک بچے کے متعلق بتایا گیا کہ دودھ کا ایک قطرہ بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا اور دن بدن اس کی صحت گرتی چلی جارہی ہے۔دودھ دیں تو پیٹ میں درد شروع ہو جاتا ہے۔یا الٹیاں آجاتی ہیں یا قے شروع ہو جاتی ہے یا اسہال لگ جاتے ہیں الغرض کئی قسم کے وبال چمٹ جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا علاج کیا وہ بچہ صحت مند ہوا، صحت مند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس طبعی حالت کی طرف لوٹ گیا جو خدا تعالیٰ نے سب کو عطا کر رکھی ہے۔جس کو ہم اپنی غفلتوں سے بگاڑ دیا کرتے ہیں۔تو اگر تم نے اپنی روحانی حالتوں کو بگاڑ رکھا ہے ، اگر ان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ روحانی غذاؤں کے انہضام کی صلاحیت باقی نہیں رہی تو محض یہ جذباتی باتیں ہیں کہ آج ہم ان فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں جہاں کسی وقت ہمارے آقا و مولیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سانس لیا کرتے تھے۔یہ سب ایک جذباتی کھیل ہوں گے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔پس وہ لوگ جو آج اس جلسے میں شمولیت کی غرض سے جو سو سالہ جلسہ ہے یہاں تشریف