دورۂ قادیان 1991ء — Page 54
54 مولانا عبد الرحیم درڈ کی کوٹھی کی طرف سے واپس ہوتے ہوئے اور حضرت سید سرور شاہ اور حضرت بھائی عبد الرحمان قادیانی کے گھروں کے سامنے سے گزر کر احمد یہ چوک آئے اور پھر یہاں سے سیدھے مکرم سید ناصر شاہ صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔اس میں ان دنوں مکرم مولوی بشیر احمد بانگروی صاحب درویش مقیم تھے۔ان کی ایک بیٹی امتہ العزیز نسیم صاحبہ (جو لندن میں مقیم ہیں ) نے حضور کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ حضور جب قادیان تشریف لے جائیں تو ان کے گھر بھی اپنے قدموں سے برکت بخشیں۔چنانچہ حضور نے ان کے گھر تشریف لے جا کر اہل خانہ سے ملاقات کی۔اس موقع پر آپ کی صاحبزادیاں بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔واپسی پر آپ احمد یہ چوک سے ہوتے ہوئے دارا صیح تشریف لے آئے۔گیارہ بجے حضور نے دفتر میں تشریف لاکر دفتری امور سرانجام دیئے اور جلسہ سالانہ کے جملہ انتظامات کا جائزہ لیا۔ایک بجے دو پہر جمعہ کی پہلی اذان ہوئی۔ایک بجکر پچاس منٹ پر آپ مسجد اقصیٰ تشریف لے گئے۔منبر مسجد اقصیٰ کے بیرونی برآمدے میں درمیانی محراب کے عین وسط میں رکھا گیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اسے عین اسی جگہ رکھا جائے جہاں یہ پہلے خطبات وخطابات کیلئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے زمانہ میں ہوا کرتا تھا۔چنانچہ خدام نے حضور کی منشاء کے مطابق اسے اٹھا کر تھوڑ اسا دائیں جانب اس ستون کے ساتھ کر دیا۔تاریخی اعتبار سے یہ ایک انتہائی اہم جمعہ تھا۔اس غیر معمولی جمعہ کیلئے پہلی اذان مکرم وحیدالدین صاحب شمس نے دی اور خطبہ سے قبل یعنی دوسری اذان مکرم مولوی منظور احمد صاحب گھنو کے درویش نے دی۔بعد ازاں سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے سرزمین قادیان میں پہلا تاریخی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس کا مکمل متن شامل اشاعت کیا جا رہا ہے۔