دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 48 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 48

48 نعرے بلند ہوتے رہے۔سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ مسیح الرابع قادیان کے ریلوے اسٹیشن کے لاؤنج میں تشریف لائے تو عشاق خلافت کی دیدار خلیفہ کے لئے جو حالت تھی، اُسکے سامنے مرغ بسمل کی مثال بہت ہی ادنی اور کمزور نظر آتی ہے لیکن اُن کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار اپنے بے اختیار نعروں سے کرتے۔چنانچہ اُنہوں نے ایسے والہانہ اور فلک شگاف نعرے بلند کئے کہ ان نعروں سے شش جہات گونجتی تھیں۔جس کے سبب مسلسل کئی روز تک قادیان کی فضا میں کان اُن نعروں کی بازگشت اور دل ایک ارتعاش محسوس کرتے رہے۔یہ ایک ایسی خوشی تھی جو تاریخ کے افق پر صدیوں بعد ابھرتی ہے اور پھر صدیوں تک اپنے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔قادیان کے درویش جو اپنے آقا کے صرف ایک اشارہ پر اس مقدس بستی کی حفاظت اور مقامات مقدسہ کے تقدس کے پاسبان بن کر اور نصف صدی سے اوپر ایک لمبی جدائی کی سوزش کے ساتھ اُس کے منتظر رہے اور بہت سے اسی امید وصل میں اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔بہر حال آج جو لقائے یار سے ہمکنار ہوئے ، اُن کی آنکھیں خلیفہ اسیح کے وجود با جودکو سرزمین قادیان میں دیکھ کر جذبات حمد و تشکر کے موتی گرانے لگیں اور دلوں کے اندرونی تلاطم کا کچھ اندازہ انڈے ہوئے جذبات اور بے قرار و بے قابو نعروں سے ہورہا تھا۔دراصل بات یہ تھی کہ ایک وہ ہجر تھا جو ۱۹۴۷ء میں خلیفہ امسیح کے قادیان ایچ کے قادیان سے ہجرت کر جانے کی وجہ سے بھارت کی جماعتوں نے اور خصوصا قادیان کے درویشوں نے سینہ سے لگایا تھا اور ایک یہ فراق تھا جو ۱۹۸۴ء میں خلیفہ اُسیح کے ربوہ سے ہجرت کر جانے کی وجہ سے ربوہ کے - درویشوں اور پاکستان کی جماعتوں نے حرز جان بنایا تھا۔لیکن آج وہ دن تھا کہ دونوں ہجرتوں کی تشنہ لبی وصل کے ایک ہی جام سے مٹائی جارہی تھی۔پاکستان کی مختلف جماعتوں اور ر بوہ سے بھی کثرت کے ساتھ احباب آئے ہوئے تھے۔اسی طرح بھارت کی ہر سمت سے آنے والے اور قادیان کے سارے باسی بھی وہاں موجود تھے۔ملک کے دور ونزدیک سے بعض غریب عشاق خلافت قرض اٹھا کر یا اپنے قیمتی اثاثے بیچ کر بھی قادیان امڈ آئے تھے لیکن بات صرف یہی نہ تھی بلکہ نظارہ بھی کچھ اور تھا اور جذبات کی کیفیت بھی مختلف تھی۔جو عاشق تھے وہ معشوق بھی تھے ، جو محب تھے وہ محبوب