دورۂ قادیان 1991ء — Page 30
30 30 باب چهارم وو 66 راضی خوشی آئے خیر و عافیت سے آئے “ دعائے قادیان" تقدیر الہی کے رنگ ,, اب ایک لمحہ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مسیح پاک اس کی پیاری بستی اور احمدیت کے دائمی مرکز کے فراق میں تڑپتی ہوئی یادوں میں اداسیوں کا بوجھ اُٹھائے کاروانِ وقت صبح امید کی جانب بڑھتا رہا حتی کہ ہجرت کے بعد جنم لینے والوں نے بھی بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیئے۔بالآخر 1370 ہش 1991ء کا سال امید کی صبح کے ایک نئے سورج کو لے کر طلوع ہوا۔یہ سال ایسا تھا کہ جس میں قادیان میں جلسہ سالانہ کے قیام کے سوسال پورے ہورہے تھے۔اس مبارک سال کے شروع ہونے سے پہلے ہی یعنی 1329 ہش 1990ء کے اختتام پر الہبی منشاء کے تحت قدرت ثانیہ کے چوتھے مظہر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے قلب صافی پر قادیان میں صد سالہ جلسہ سالانہ منعقد کرنے اور اس میں بنفس نفیس شامل ہونے کی تحریک ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے قادیان میں آپ کے ورود کے بارے میں بعض احباب کو خوابوں کے ذریعے آگاہ بھی کر دیا تھا۔چنانچہ آپ نے جلسہ سالانہ قادیان 1990ء کے موقع پر جو پیغام جماعت قادیان کو بھجوایا ، اس میں فرمایا : وو بیعت لدھیانہ کے ذریعہ 1889ء میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مقدس ہاتھوں سے مشیت الہی نے جماعت احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔اس عظیم تاریخ ساز واقعہ کی یاد میں جماعت احمدیہ عالمگیر نے 1989ء کو سو سالہ جشن تشکر کے سال کے طور پر منایا۔پس اگر پہلے جلسہ کی بنیاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جلسہ تشکر کے انعقاد کا انتظام کیا جائے تو اس کے لئے موزوں سال 1991ء بنے گا۔