دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 266 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 266

266 نے فرمایا کہ حرف آخر دائی مرکز احمد بہت کو واپسی کے سلسلہ میں حضرت امیر المونین فاریہ امسیح الرابع رحمہ اللہ بہت سے مخلصین جذبات کی رو میں بہہ کر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ قادیان واپسی کے سامان ہو چکے ہیں اور وہ دن قریب ہیں یہ جذباتی کیفیت کا پھل تو ہے لیکن حقیقت شناسی نہیں ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف میں آپکو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔دنیا میں مذاہب کی تاریخ میں جہاں جہاں بھی ہجرت ہوئی ہے اور واپسی ہوئی ہے وہاں ہجرت سے واپسی ہمیشہ اس بات کو مشروط رہی کہ پیغام کی فتح ہوئی اور اس دین کو غلبہ نصیب ہوا جس دین کی خاطر بعض مذہبی قوموں کو اپنے وطنوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔مذہب کی دنیا میں جغرافیائی فتح کی کوئی حیثیت نہیں اور کسی پہلو سے بھی جغرافیائی فتح کا میں نے مذہب کی تاریخ میں کوئی نشان نہیں دیکھا مگر جغرافیائی فتح صرف اس جگہ مذکور ہے جہاں پیغام کے غلبہ کے ساتھ وہ فتح نصیب ہوئی ہے۔حقیقت میں قرآن کریم نے اس مضمون کو سورہ نصر میں خوب کھول کر بیان فرما دیا ہے اور ہمیشہ کے لئے راہنمائی فرما دی کہ اللہ کے نزدیک حقیقی فتح اور حقیقی نصر کیا ہوتی ہے۔فرمایا: - إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجَانٌ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا کہ جب تو دیکھے کہ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ اللہ کی فتح آگئی۔وَالْفَتْحُ اور اس کی طرف سے فتح عطا ہوئی تو کیا نظارہ دیکھے گا۔یہ نہیں کہ تم فوج در فوج علاقوں کو فتح کرتے ہوئے دندناتے ہوئے ان علاقوں پر قبضہ کر لو گے بلکہ یہ نظارہ تم دیکھو گے کہ فوج در فوج وہ جو اس سے پہلے تمہارے غیر تھے ، جو اس سے پہلے تم سے دشمنی رکھتے تھے وہ اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں گویا دین میں فوج در فوج داخل ہونے کا نام فتح ہے نہ کہ غیر لوگوں کے علاقے میں فوج در فوج داخل ہونے کا نام فتح ہے۔پس فتح کا جو اسلامی تصور اور دائی تصویر جسمیں کوئی تبدیلی نہیں ہے قرآن کریم کی اس سورۃ نے