دورۂ قادیان 1991ء — Page 263
263 متحرک اور فعال زندگی اور اکیس سالہ عظیم الشان دور خلافت کا ایک ایک لمحہ گواہ ہے کہ آپ اپنی آخری سانس تک خدمت دین میں مصروف رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی کرشماتی شخصیت کے ذریعے جماعت احمدیہ کو معجزانہ رنگ میں ایسی حیرت انگیز ترقیات سے نوازا جن کے بارے میں ایک عام ذہن محض سوچ کر رہ جاتا ہے اور ان کی اتھاہ تک مشکل سے رسائی پاتا ہے۔آپ کے ہجر کا غم بھولنے والا نہیں لیکن آپ کی ہجرت کا فیضان اتنا زیادہ ہے کہ اس غم کو آسودہ کرنے کے لئے بہت ہے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کا دور خلافت اللہ تعالیٰ کے لئے بے پایاں احسانات ، ابر باراں کی طرح برستے ہوئے انعامات ، تائیدات اور فراواں نصرتوں کا دور ہے۔جن کا مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں۔ނ کر چکے ہیں۔آپ کے دور خلافت کی ایک اہم اور نمایاں خصوصیت چوالیس برس کی طویل جدائی کے بعد قادیان کی طرف آپ کا سفر ہے۔۱۹ دسمبر ۱۹۹۱ ء کا دن احمدیت کی تاریخ میں وہ روشن دن ہے جب سوسالہ جشن احمدیت کے موقع پر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے قادیان کی سرزمین پر اپنے مبارک قدم رکھے۔اس مسرت آگیں لمحے کی تصویر کشی کرتے ہوئے مکرم ہادی علی چوہدری صاحب لکھتے ہیں:۔یہ ایک ایسی خوشی تھی جو تاریخ کے افق پر صدیوں کے بعد بھرتی ہے۔اور پھر صدیوں تک اپنے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔قادیان کے درویش جو اپنے آقا ومطاع کے صرف ایک اشارے پر اس مقدس بستی کی حفاظت اور مقامات مقدسہ کے پاسبان بن کر اور نصف صدی سے اوپر ایک لمبی جدائی کی سوزش کے ساتھ اس کے منتظر رہے۔آج ان کی آنکھیں خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود باجود کو سرزمین قادیان میں دیکھ کر جذبات حمد و تشکر کے موتی گرانے لگیں اور دلوں کی اندرونی تلاطم کا کچھ اندازہ تو امدے ہوئے جذبات اور بے قرار نعروں سے ہو رہا تھا۔ایک طویل ہجر کے بعد وصل کے یہ لمحات دیدنی تھے۔جب اہل وفائے قادیاں کی بے قرار نگاہیں پروانوں کی طرح شمع رخ انور کو چومنے کے لئے بے تاب تھیں۔برادرم مکرم ہادی علی چوہدری صاحب نے جنہیں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہم رکابی کا شرف حاصل ہوا اور اس تاریخی روحانی سفر کی لمحہ لمحہ داستان قلم بند کر کے گویا ہندوستان کی سرزمین کی طرف چلنے والی ہوائے عطر بیز کو اسیر قلم کیا ہے۔ہمارے دل ان کے لئے ممنونیت کے جذبات سے لبریز ہیں کہ انہوں نے اس سفر کے دوران میں ہر