دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 264 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 264

264 لمحے اور واقعے کی اس خوبصورت اور حقیقی انداز میں عکس نمائی کی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے ہم خود اس با برکت سفر میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہم سفر رہے ہوں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی مجالس عرفان ،خطبات ،صد سالہ جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی تقاریر دل پذیر کی دل نشیں تفاصیل کے ساتھ قادیان کے ان گلی کوچوں کا حال عجیب وارفتگی کا عالم طاری کر دیتا ہے۔جن کے ساتھ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو ایک جذباتی وابستگی تھی۔لکھنے والے کا کمال یہ ہے کہ اس نے قادیان کی گلیوں ، راستوں سے گزرتے ہوئے معمولی جزئیات اور بظاہر سرسری واقعات کو بھی اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے راہ میں انتظار کرنے والے بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کے جذبات ،ان کی دلی کیفیات ، حضور سے ان کی ملاقات حضور کی گفتگو اور مکالمے ، ان سے پیارو محبت کا سلوک ، یہ سب باتیں مصنف کے نوک قلم پر آکر تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے عجیب گداز دل عطا فر مایا تھا۔قادیان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی آپ کے دل کی جو کیفیت تھی اسے محسوس کرتے ہوئے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ قادیان میں جو پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اس سے حضور کی اس کیفیت کی بخوبی عکاسی ہوتی ہے۔حضور نے فرمایا:۔یہ وہ دن ہیں کہ جب سے ہم یہاں آئے ہیں ، خواب سامحسوس ہو رہا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے خواب دیکھ رہے ہیں۔حالانکہ جانتے ہیں کہ یہ خواب نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر ہے۔ایسے خوابوں کی تعبیر جو مدتوں ، سالہا سال ہم دیکھتے رہے اور یہ تمنا دل میں کلبلاتی رہی۔بلبلاتی رہی کہ کاش ہمیں قادیان کی زیارت نصیب ہو۔کاش ہم اس مقدس بستی کی فضا میں سانس لے سکیں جہاں میرے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کامل غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام سانس لیا کرتے تھے۔“ (خطبہ جمعہ ۲۰/ دسمبر ۱۹۹۱ء) حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کا سفر قادیان تاریخ احمدیت کا ایک شاندار باب ہے، جو ہجر کے بعد وصل کے پر لطف ذائقے سے آشنا کرتا ہے۔اس میں محبتوں کا والہانہ پن بھی ہے اور عقیدتوں کا وفور بھی۔برسوں سے بچھڑے ہوئے محبوب سے اچانک ملاقات ہو جائے تو دل سے ایک شعلہ سالپکتا