دورۂ قادیان 1991ء — Page 245
245 تھے جنہوں نے اگلے دن قادیان جانا ہوتا تھا۔اس مقصد کے لئے دارالذکر میں باقاعدہ کا ؤنٹر لگائے گئے تھے۔روزانہ اس شعبہ میں کام کرنے والے خدام کی تعداد ۱۰ سے ۱۲ ہوتی تھی۔امیگریشن اس شعبہ کے انچارج مکرم منصور احمد صاحب تھے۔پاسپورٹ وصولی کے مرحلے سے نکل کر امیگریشن کے لئے آجاتا تھا۔اس شعبہ میں ۸ تا ۰ اخدام روزانہ کام کرتے رہے۔یہ کام ۲۰ / دسمبر سے لے کر ۲۵ / دسمبر تک جاری رہا۔اس میں خاص طور پر انجینئر نگ یو نیورسٹی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے طلباء ڈیوٹی ادا کرتے رہے۔واپسی پاسپورٹ صبح پاسپورٹ کے ساتھ ہی ریلوے ٹکٹ بھی پیش کیا جاتا۔اس شعبہ میں مکرم شعیب نیر صاحب اور فہیم ناگی صاحب کے ساتھ دیگر خدام ڈیوٹی ادا کرتے رہے۔مکرم فضل عمر ڈوگر صاحب بھی اس شعبہ میں خدمت کرتے رہے۔ہیلتھ کارڈز اس شعبہ کے نگران مکرم نصیر الدین جنجوعہ صاحب اور مکرم ظہیر الدین جنجوعہ صاحب تھے۔چوہدری منورعلی صاحب نے ایک با قاعدہ کا ؤنٹر کا اہتمام کیا تھا جہاں سے تمام مہمانوں کو ہیلتھ کارڈز جاری ہوتے رہے۔تواریخ روانگی اضلاع برائے قادیان تقسیم کار کو آسان کرنے کی خاطر تمام امراء اضلاع کو مختلف تواریخ مقرر کر کے اطلاع بھجوادی گئی تھی۔تا کہ ان مقررہ تا بیخوں پر مقررہ اضلاع کے مہمان ہی وفود کی صورت میں تشریف لائیں۔جسکی وجہ سے ان کو رہائش و طعام وغیرہ کی سہولت بہتر طور ہم پہنچانے میں آسانی رہی۔اس کا شیڈول درج ذیل تھا۔۲۰ / دسمبر : ۲۱ / دسمبر : ربوہ اور متفرق۔لاہور، ٹو بہ ٹیک سنگھ ، سرگودہا ، فیصل آباد، جھنگ ، چکوال، اوکاڑہ، خانیوال، گوجرانوالہ، اٹک، پشاور، بھکر ،خوشاب،ساہیوال