دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 19 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 19

19 اور بہشتی مقبرہ میں ہوئیں ، سب لوگ ٹرکوں کے پاس پہنچ گئے۔مگر منظر ہی کچھ اور تھا۔جانے کی خوشی کسی کو کیا ہونی تھی ،ہر ایک رنج اور غم سے لیسا جارہا تھا۔۔۔ضبط کی طاقت۔۔۔والوں۔۔۔کے راز کو اُن کی سرخ آنکھیں پکار پکار کر فاش کر رہی تھیں۔۔۔( دوسرے ) اس طرح روتے تھے جس طرح کوئی بچہ اپنی ماں سے بچھڑنے کے وقت روتا ہے۔۔۔الوداعی دعا۔۔۔جس کرب والحاح کے ساتھ مانگی گئی۔اس کو الفاظ بیان نہیں کر سکتے اور جس نے وہ نظارہ دیکھا وہ بھی اسے بھول نہیں سکتا۔وہاں۔۔۔(موجود) غیر مسلم۔۔۔( ساری ) مسلم ملٹری۔۔۔سب محو حیرت تھے کہ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ گزشتہ چار ماہ موت کے منہ میں جھانکنے کے باوجود بھی ان لوگوں کی اس وقت یہ حالت ہے جبکہ ان کو موت سے بچایا جا رہا ہے۔۔۔پھر ) جانے والے چلے گئے اور پیچھے رہنے والے ایک سکتہ کی حالت میں ان کو تکتے رہے۔میں بھی ان لوگوں میں تھا جو کہ ان کو الوداع کہہ رہے تھے۔“ (الفضل 10 جنوری 1948ء) یہ تو صیح پاک کی بستی کے پاسبانوں کا حال تھا جو وہاں درویش بن کر رہ پڑے اور دوسری طرف اس پیاری اور مقدس بستی سے جدا ہونے والے تھے جو اُس کی یاد میں تڑپنے لگے۔ان کی ہر شام کسی پُر امید صبح کی بیقرار تمناؤں کے سایوں میں رات کی آغوش میں اتر جاتی۔لیکن ہر نیا طلوع ہونے والا سورج اُن کے ہجر وفراق کی سوزش میں اضافہ کر جاتا۔پھر یہ تڑپ کبھی شعروں کے قالب میں ڈھل کر بے قرار کر جاتی تو کبھی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ اداسیاں بکھیر جاتی۔لیکن ہر ایک کے خوابوں کا مسکن ہمیشہ اس کی وہی پیاری بستی ہی رہی۔پھر کوئی اپنی کسی خواب سے قادیان واپس جانے کے تخمینے باندھتا تو کوئی حضرت خلیفہ اسیح کے ارشادات ورؤیا سے واپسی کے اندازے لگاتا۔اسی طرح ”تذکرہ سے بھی واپسی کی تاریخیں معتین کرنے کی بڑی کثرت سے کوششیں کی جاتیں۔یہ وہ کیفیات تھیں جن کی وجہ سے قادیان سے ہجرت کا داغ ہمیشہ زندہ رہا جس میں واپسی کی تمنا ئیں بھی ہمیشہ بے قرار ر ہیں۔قادیان کی یاد میں بے قرار تمناؤں کا اندازہ حضرت مصلح موعود ﷺ کی ایک نظم سے لگایا