دورۂ قادیان 1991ء — Page 20
20 جا سکتا ہے جو آپ نے ایک عارضی جدائی میں 1924ء میں یورپ کے سفر کے دوران تحریر فرمائی تھی۔آپ نے لکھا: ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں مدعائے حق تعالی مدعائے قادیاں یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقامِ پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں آه کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بانیل مرام باندھیں گے رختِ سفر کو ہم برائے قادیاں گلشن احمد کے پھولوں کی اڑا لائی جو کو زخم تازہ کر گئی بادِ صبائے قادیاں جب کبھی تم کو ملے موقع دعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہل وفائے قادیاں ( کلام محمود صفحه: 114) اہلِ دل اندازہ کر سکتے ہیں کہ غیر معینہ جدائی کا قلق اور اضطراب ہجر زدوں کے قلب وجگر کو کس طرح خون کرتا ہوگا۔چنانچہ حضور نے ہجرت کے بعد جو نظم لکھی یہ جلسہ سالا نہ قادیان میں پڑھی گئی بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ مگر میں خدا چاہتا ہوں نکالا مجھے جس نے میرے چمن سے میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں میرے بال و پر میں وہ ہمت ہے پیدا کہ لے کر قفس کو اڑا چاہتا ہوں ( کلام محمود صفحه : 209)