دورۂ قادیان 1991ء — Page 18
18 اور اپنی گارڈ ساتھ روانہ کروں گالیکن عین وقت پر اُسے بھی کہیں اور جگہ جانے کا آرڈر آ گیا اور اس نے کہا میں اب مجبور ہوں اور کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتا۔آخر گیارہ بج کر پانچ منٹ پر میں نے فون اُٹھایا اور چاہا کہ ناصر احمد کو فون کروں کہ ناصر احمد نے کہا کہ میں فون کرنے ہی والا تھا کہ کیپٹن عطاء اللہ یہاں پہنچ چکے ہیں اور گاڑیاں بھی آگئی ہیں۔چنانچہ ہم کیپٹن عطاء اللہ صاحب کی گاڑیوں میں قادیان سے لاہور پہنچے۔یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ فوراً ایک نیا مرکز بنایا جائے اور مرکزی دفاتر بھی بنائے جائیں“۔تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ: 745 748t ) امام جماعت احمد یہ حضرت خلیفہ مسیح اثانی کے لاہور پہنچ جانے کے بعد مختلف قافلے احمدیہ لمسیح کے پاکستان کے لئے روانہ ہوتے رہے۔آخری قافلہ قادیان سے مؤرخہ 6 نومبر 1947ء کو پاکستان کیلئے روانہ ہوا۔اس میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ، حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ، دیگر بزرگان سلسلہ اور متعدد نو نهالان خاندان مسیح موعود اللہ شامل تھے۔اس کنوائے کی روانگی کے بعد قادیان میں تین سو تیرہ درویشوں نے پیچھے رہ جانا تھا۔بوقت روانگی حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے نہایت درد بھرے الفاظ میں کہا۔”اے قادیان کی مقدس سرزمین تو ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پیاری ہے لیکن حالات کے تقاضے سے ہم یہاں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔اس لئے ہم تجھ پر سلامتی بھیجتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں۔“ ( الفرقان درویشان نمبر صفحہ ۶) اُس وقت کے رقت انگیز منظر کی عکاسی کرتے ہوئے محترم صاحبزادہ مرز اظفر احمد صاحب (مرحوم) بیان فرماتے ہیں: اجتماعی دعاؤں کے بعد جو کہ مسجد مبارک ، بیت الدعا، مسجد اقصیٰ