دورۂ قادیان 1991ء — Page 204
204 سکول ہوا کرتا تھا اسے اس وقت سکھوں کا ایک ادارہ ہے جو چلا رہا ہے۔نام اس کا مجھے یاد نہیں، خالصہ نام سے کوئی ادارہ ہے اور وہ انہی کے قبضہ میں ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ اس کا معیاراتنا گر چکا ہے کہ دیکھ کر رونا آتا ہے۔جس حال میں ہم نے تقسیم کے وقت اس عمارت کو چھوڑا تھا اس حال سے بہت زیادہ بدتر ہو چکی ہے لیکن اس کو بحال کرنے کے لئے یا اس میں مزید اضافے کی خاطر کوئی بھی خرچ نہیں کیا گیا یہانتک کہ جو کمرہ زیر تعمیر تھا، جس کی چھت پڑنے والی تھی ، جس حالت میں اینٹیں پڑی تھیں اسی طرح آج بھی پڑی ہیں اور وہ تالاب جسے پیچھے چھوڑ کر آئے تھے جو سکول کا سوئمنگ پول (Swimming Pool) تھا بعد میں کالج کا بن گیا اسے اس زمانہ میں ٹینک (Tank) کہا کرتے تھے اور اس کی حالت یہ ہے کہ اس میں اب گندا پانی جمع ہے کوئی دیکھ بھال کا انتظام نہیں۔لیکن وہ وقار عمل سے اور بڑی دعاؤں کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔اسکی تعمیر ایسی اعلیٰ اور پختہ ہے کہ میں نے پھر کر دیکھا ہے ایک اینٹ بھی ابھی اپنی جگہ سے نیچے نہیں بیٹھی حالانکہ کھلے آسمان کے نیچے بغیر دیکھ بھال کے پڑا ہوا ہے۔تو اصل دعا تو یہی کرنی چاہئے کہ قادیان میں تعلیمی اداروں کو بحال کرنا ہے تو یہ عمارتیں جماعت کو واپس ملیں۔اس سلسلہ میں کچھ گفت وشنید کا میں وہاں آغاز کر آیا ہوں۔کچھ یہاں سے سکھوں کی اس لیڈرشپ سے بھی بات کریں گے جو باہر ہے اور پنجاب میں بھی اس تحریک کو چلایا جائے گا۔اگر وہ ہمیں یہ ادارہ واپس کر دیں تو بہت وسیع کھیل کے میدان بھی اس کے ساتھ ہیں اور ایسا شاندار کالج دوبارہ وہاں قائم کیا جا سکتا ہے جو تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں ایک شہرت اختیار کر جائے۔دور دور سے طلباء وہاں آئیں۔بہترین اس کے معیار ہوں اور اس کے ساتھ ہی سکول کا قیام بھی تعلق رکھتا ہے۔پہلے خیال تھا کہ کالج کے قرب میں الگ سکول تعمیر کیا جائے جو بہترین معیار کا ہو۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر سکول بہترین معیار کا بنا دیا جائے اور کالج جس حال میں ہے اسی حال میں ہوتو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔سکول کے چند سالوں کے بعد بچوں کو پھر باہر نکلنا پڑے گا اور پھر غیر فضا سے بداثرات قبول کرنے کے احتمال باقی رہیں گے اور محض سکول سے کسی مقام کی شان نہیں بڑھا کرتی۔اس کے ساتھ ایک تعلیمی تسلسل ہونا چاہئے۔آئندہ تعلیم کا انتظام۔اس سے آگے تعلیم۔حتی کہ اس معیار کو زیادہ سے زیادہ بلند کیا جائے اور پھر وسیع کیا جائے۔یہ مقاصد ہیں