دورۂ قادیان 1991ء — Page 203
203 آپریشن کا ماہر ہے اور وہ ایک مہینہ دو مہینے وقف کرتا ہے تو دور دور کے علاقے سے لوگوں کو یہ دعوت دی جائے گی کہ آئیں اور قادیان سے مفت فیض حاصل کریں اور ان آپریشنوں کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی یا اگر لی گئی تو اس رنگ میں کہ صاحب حیثیت امراء سے کچھ لے لیا جائے گا اور غرباء کا محض مفت علاج ہوگا اسی طرح دل کے ماہرین ہیں۔پھیپھڑوں کے ماہرین ہیں اور انتڑیوں وغیرہ کی بیماریوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین ہیں۔اعصابی امراض کے ماہرین ہیں ، سرجری میں ہڈیوں کی سرجری کے سپیشلسٹ ، دل کی سرجری کے سپیشلسٹ وغیرہ وغیرہ۔جہاں تک میں نظر ڈال کر دیکھ رہا ہوں خدا کے فضل سے ہر مرض کے علاج میں اس وقت احمدی ماہرین مہیا ہو چکے ہیں اور خدا کے فضل سے اپنے اپنے دائرے میں بہت شہرت یافتہ لوگ ہیں۔ہر قسم کی جراحی کا کام اگر چہ اس وقت وہاں نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے ایک سپورٹ کمپلیکس کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔مثلاً دل کا سر جن یعنی جو دل کا ماہر جرح ہے وہ ہر جگہ تو ہسپتال میں جا کر اپریشن نہیں کر سکتا۔اس کے لئے بہت سے ایسے متعلقہ سامان چاہئیں۔بہت سے ایسے ماہرین چاہئیں جو سب مل کر وہ فضا قائم کرتے ہیں جس میں جراحی کا وہ درخت لگتا ہے تو امید یہی ہے کہ انشاء اللہ رفتہ رفتہ اس ہسپتال کو بڑھاتے بڑھاتے اس مقام تک پہنچادیں گے کہ جس میں دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں اس کا شمار ہو اور خدا کے فضل سے آغا ز ہو چکا ہے۔ایک اور پہلو تعلیم کا ہے۔اس حصہ میں میں جماعت کو دعاؤں کی تحریک کرتا ہوں کہ ابھی بہت سی روکیں ہیں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کے سکول اور کالج کا تعلق ہے اگر چہ حکومت نے صدر انجمن کے نام یہ جائیدادیں بحال کر دی ہیں اور اس میں ہم ہندوستان کی عدلیہ کے بڑے ممنون ہیں جنہوں نے بہت ہی اعلیٰ انصاف کے ساتھ کا روائی کی۔کسی تعصب کو انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور اس ثبوت کے مہیا کرنے پر کہ وہ صدرانجمن احمد یہ جو ان چیزوں کی مالک تھی بلا انقطاع قادیان میں موجود رہی ہے اور وہی مالک ہے اس لئے اس کو مہاجر قرار دے کر تمہیں ان جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔اس دلیل پر ہندوستان کی عدلیہ نے انصاف کا بہت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور یہ جائیدادیں بحال کر دیں۔لیکن جب تک یہ جائیدادیں بحال ہوئیں اس وقت تک بہت سے اداروں پر دوسرے قابض ہو چکے تھے۔مثلاً تعلیم الاسلام کا لج جو پہلے تعلیم الاسلام