دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 198 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 198

198 ان کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت سی ایسی تجویزیں ہیں جو میرے زیر غور ہیں اور جن کے متعلق مختصراً مختلف وقتوں میں قادیان میں بھی میں جماعت کے سامنے گزارش کرتا رہا ہوں۔پچھلے خطبہ میں بھی میں نے کچھ بیان کیا تھا۔اب اسی مضمون کو کچھ اور آگے بڑھا کر جماعت کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ کس رنگ میں ہمیں قادیان کے ان دریشوں کے حقوق ادا کرنے ہیں کیونکہ ان کا ہم پر احسان ہے۔ہمارا ان پر احسان نہیں ہوگا اگر ہم ان کی خاطر کچھ کریں۔وہ صحابی جس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ اصحاب الصفہ کو حکم کیوں نہیں دیتے کہ یہ باہر نکل جائیں ، اس کا ایک بھائی اصحاب الصفہ میں شامل تھا خود باہر نکلتا تھا اور کماتا تھا اور اچھا کھاتا پیتا تھا۔اس کے ذہن میں دراصل خاص طور پر اپنا بھائی تھا کہ یہ بھی ہاتھ پاؤں کا ٹھیک ٹھاک ہے۔یہ کیوں پاگلوں کی طرح یہاں بیٹھ رہا ہے ، نکھا ہے۔آنحضرت ﷺ اس کو حکم دیں تو یہ بھی باہر نکلے۔اس کے جواب میں جو بات آنحضور ﷺ نے بیان فرمائی جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ تم نہیں اس کا حال جانتے۔وہ یہ بات تھی کہ بعض دفعہ خدا لبعضوں کی وجہ سے دوسروں کو رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں کیا پتہ کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ اس کی برکت سے مل رہا ہو۔یہ ان کے وہ چھپے ہوئے حال تھے جن کا ایک ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس جواب میں کیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قادیان کے درویشوں کی برکت بھی اسی طرح سب دنیا کی جماعتوں کے اموال میں شامل ہو چکی ہے۔ان کی سہولتوں اور ان کی آسائشوں میں شامل ہو چکی ہے۔وہ لوگ جو شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں ان کی برکتیں پھیلتی ہیں اور ہم اگر ان کی خاطر کچھ کریں گے تو ان پر احسان کے طور پر نہیں بلکہ ان کے احسان کا بدلہ اتارنے کی کوشش میں کچھ کریں گے۔اگر ان کی برکت سے خدا تعالیٰ نے ہمیں مثلاً وسیع رزق عطا نہ بھی کیا ہوتب بھی ان کا حق ہے کہ وہ ساری جماعت کی خاطر ایک فرضِ کفایہ ادا کرتے ہوئے قادیان میں بیٹھ رہے اور انہوں نے بہت ہی عظیم خدمت سر انجام دی ہے لیکن جیسا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی حدیث بیان کی ہے اس میں ادنی سا بھی شک نہیں کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر اسیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں اسیر ہیں جن کو باہر نکلنے کی اس لئے طاقت نہیں کہ زنجیروں نے باندھ رکھا ہے یا جیل خانے کی دیوار میں حائل ہیں یا وہ گیٹ حائل ہیں جن میں سلاخیں جڑی ہوئی ہیں۔وہ بھی اصحاب الصفہ کی ایک قسم ہیں اور