دورۂ قادیان 1991ء — Page 197
197 میں خود قیدی بن کر بیٹھ رہے تھے ورنہ جس طرح مدینہ میں بسنے والے باقی انصار اور مہاجرین کے لئے زمین کھلی تھی اور وہ اپنی کمائی کی خاطر جب چاہیں جہاں چاہیں جاسکتے تھے اس طرح ان پر بھی تو کوئی قید نہیں تھی۔یہ جو مضمون ہے یہ اس زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ قادیان کے احمدی باشندوں پر صادق آتا ہے۔ان کے متعلق بھی جو مضمون میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ غربت اور تنگی اور مشکلات کا دور گزرا ہے یہ جسمانی قید تو کوئی نہیں تھی کہ جس کے نتیجہ میں وہ ان مشکلات کے دور میں سے گزرے اور آج تک گزر رہے ہیں بلکہ محض ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر خود اپنے آپ کو انہوں نے محصور کر رکھا ہے اور وہ مقامات مقدسہ کی حفاظت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الدار کی حفاظت ہے اور قادیان کی مقدس بستی کو ہمیشہ آبا در کھنے کا عزم ہے۔پس ایک اصحاب الصفہ وہ تھے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں تھے۔کچھ وہ تھے جو مدینہ میں بستے تھے۔محمد رسول اللہ ان کو پہچانتے تھے اور باقی سب کو دکھائی نہیں بھی دیتے تھے کیونکہ وہ سائل نہیں تھے، مانگنے کے عادی نہیں تھے۔عزت دار لوگ تھے اور ایک وہ بھی ہیں جو آخرین میں پیدا ہوئے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں پیدا ہوئے اور وہ اصحاب الصفہ خاص طور پر آج قادیان میں بسنے والے درویش ہیں۔درویش کی اصطلاح تو اب انہوں نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر لی ہے جو قادیان سے ہجرت کے دوران وہاں ٹھہرے تھے لیکن میں جب درویش کہتا ہوں تو مراد یہ ہے کہ وہ سارے جو قادیان کی عزت اور اس کے تقدس کی خاطر قربانی کی روح کے ساتھ قادیان آبسے۔یہ سارے دور یشان قادیان ہی ہیں اور ان پر اصحاب الصفہ کا اور ان آیات کا مضمون بہت عمدگی سے صادق آتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی میل کے فیوض میں سے ایک فیض قرآن کریم میں یہ بھی بیان ہوا کہ وہ آخرین کو اولین سے ملانے والا ہے یعنی ان کے غلاموں میں سے ایک ایسا پیدا ہوگا جو دور آخر میں بسنے والے محمد مصطفی " کے غلاموں کو اول دور میں پیدا ہونے والے غلاموں کا ہم عصر کر دے گا ، ان کا ساتھی بنادے گا۔پس قادیان کے یہ درویش بھی انہی ساتھیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ۱۳۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰ سال تک کے زمانے کی فصیل پاٹ دی اور خدا کے فضل سے اولین میں شمار ہوئے۔