دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 196 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 196

196 بے ہوش ہوا تھا۔تو جن کی یہ کیفیت ہے ان کا خواہ وہ اصحاب الصفہ میں تھے یا باہر تھے۔اس وقت تھے یا آئندہ آنے والے تھے ان سب پر ان آیات کا مضمون اطلاق پاتا ہے۔پھر فرمایا : أَحْصِرُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے اور ان کا باہر جانا ممکن نہیں تھا۔بعض مفسرین مثلاً قرطبی نے یہ لکھا ہے کہ مراد یہ تھی کہ وہ روزی کمانے کے لئے باہر نہیں جاسکتے تھے کیونکہ اردگرد حالات خراب تھے۔یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ اصحاب صفہ کے علاوہ اور مسلمان بھی سارے مدینہ میں بس رہے تھے۔وہ جب باہر جاسکتے تھے اور کما سکتے تھے تو صرف اصحاب الصفہ پر ہی کیا قیامت آپڑی تھی کہ وہ با ہر نہیں جاسکتے تھے ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ جسمانی لحاظ سے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے کیونکہ ایک اور روایت بھی اس تفسیر کو غلط قرار دیتی ہے جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی کہ جو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ بہتر ہے۔جس کو دیا جائے اس کی نسبت جو ہاتھ دینے والا ہے وہ بہتر ہے اس قسم کی نصائح کے اثر کے نتیجہ میں اصحاب الصفہ کے متعلق آتا ہے کہ یہ جنگلوں میں لکڑیاں کاٹنے کے لئے چلے جایا کرتے تھے اور جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور وہاں بیچ کر جو کچھ ملتا خود غربت کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے تو اس لئے یہ خیال کہ باہر کا ماحول ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا یہ درست نہیں ہے۔ان پر کچھ اور قیود تھیں اور وہ قیود حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت کی قیود تھیں۔یہ آنحضرت کا دامن چھوڑ کر باہر جانا نہیں چاہتے تھے۔بعض روایات میں آتا ہے کہ ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا نہیں۔ہم تو یہیں رہیں گے ، اسی مسجد میں رہیں گے۔ایک صحابی نے رسول اللہ اللہ سے گزارش کی کہ یا رسول اللہ! ان کو حکم دیں کہ یہ بھی باہر نکل کر کام کریں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ان کا حال معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ سے سوال کیا گیا کہ تم کیوں نہیں باہر نکلتے تو انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میری بہت سی عمر، عمر کا ایک بڑا حصہ جہالت میں ضائع ہو گیا۔اب زندگی کے باقی دن ہیں، میں نہیں چاہتا کہ ایک لمحہ بھی ایسا آئے کہ آنحضرت ﷺ باہر تشریف لائیں اور میں دیکھ نہ سکوں یا آپ کی باتیں نہ سن سکوں تو یہ محبت کے قیدی تھے۔اُحْصِرُوا فِي سَبِيْلِ الله سے مراد یہ ہے کہ بہت اعلیٰ مقصد کے لئے اللہ کی راہ