دورۂ قادیان 1991ء — Page 195
195 ہو کیونکہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ہم میں سے اکثر کے پاس تو چادر بھی نہیں تھی جس کو اوڑھ لیتے اور کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔رات کو کوئی دوست کھانا پیش کر دیتے تھے، صبح آنحضور آکر ہمارا حال دریافت فرماتے اور پوچھا کرتے کہ کچھ کھانے و ملا یا نہیں؟ اور اس پر ہم عرض کرتے کہ یا رسول اللہ کچھ ملا ، تو بہت خوش ہوتے۔خدا کا شکر ادا کرتے کہ الحمد للہ خدا کی راہ میں فقیروں کو کچھ کھانے کومل گیا۔یہ کیفیت جن لوگوں کی ہو ان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ کوئی بھی جاہل خواہ کیسا بھی جاہل کیوں نہ ہوان کو امیر سمجھتا تھا اور حاجت مند نہیں سمجھتا تھا یہ ایک بالکل غلط بات ہے اس کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔پھر اگلی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا کہ داود تَعْرِفُهُمْ بِيْمُهُم تو اُن کے چہروں کی علامتوں سے ان کو پہچانتا ہے۔اصحاب الصفہ کو تو چہروں کی علامتوں سے پہچاننے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔وہ سب سامنے تھے۔ان کا حال ظاہر وباہر تھا۔آنحضرت لیے دن رات ان کی فکر میں غلطاں رہا کرتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہو۔یہ شان نزول تو یقیناً اصحاب الصفہ ہی ہوں گے جیسا کہ روایات میں بیان ہوا ہے لیکن تمام مسلمان سوسائٹی میں خدا کے ایسے بہت سے بندے تھے جن کے رزق کی راہیں تنگ ہو چکی تھیں اور جو عام روز مرہ کی زندگی میں اپنی غربت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہی کے متعلق آنحضرت نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جس کو دو تین کھجوریں میسر آجائیں یا دو لقے میسر آجائیں بلکہ مسکین وہ ہے جو خدا کی راہ میں صبر کے ساتھ گزارا کرتا ہے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا تا۔اپنی ضرورتوں کو دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا۔پس اصحاب الصفہ تو اپنے حالات کی وجہ سے ظاہر ہو کرسامنے آچکے تھے کچھ آیات کا مضمون اُن پر ان معنوں میں ضرور صادق آتا ہے کہ شدید غربت کے باوجود ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے اور فاقوں کے باوجود کسی سے مانگتے نہیں تھے۔حضرت ابو ہریرہ ﷺ کی وہ روایت بارہا آپ نے سنی ہوگی اور بار ہا سنائی بھی جائے تو وہ کبھی پرانی نہیں ہوتی کہ ایک دفعہ فاقوں سے بے ہوش ہو گئے اور لوگ سمجھے کہ مرگی کا دورہ ہے چنانچہ جو تیاں سنگھا نے لگے۔بعض روایات میں آیا ہے کہ ان کو ہوش میں لانے کے لئے تھپڑ بھی مارے گئے اور لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا دورہ ہے حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ میں فاقوں کی وجہ سے -