دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 194 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 194

194 سے جو ان کے چہرے پر ظاہر ہیں۔ان کی پیشانیوں پر ظاہر ہیں ان سے ان کو پہچانتا ہے لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافَا وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے مانگتے نہیں ہیں۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِیم اور جو کچھ بھی تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو، مال دیتے ہو۔خیر سے مراد یہاں مال ہے۔فَاِنَّ اللهَ بِہ عَلِیم اللہ تعالیٰ اسے بہت جانتا ہے۔یہ آیت اور اس سے پہلے کی جو آیات ہیں جن میں صدقات کا مضمون بیان ہوا ہے، تمام اہل تفسیر کے نزدیک اصحاب الصفہ پر اطلاق پانے والی آیات ہیں۔اصحاب الصفہ وہ مہاجرین تھے مسجد نبوی کے ایک تھڑے پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ان کے متعلق مختلف روایات ہیں۔اصحاب الصفہ کی جو تعداد ہے اس میں بھی اختلافات ہیں لیکن بالعموم جو مستند روایات ہیں مثلاً بخاری میں بھی ستر کا ذکر ہے کہ کم و بیش ستر اصحاب الصفہ تھے جو دن رات مسجد نبوی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ان کا پس منظر یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف آنا شروع ہوئے تو ان کے لئے گزراوقات کی کوئی صورت نہیں تھی۔مسجد میں جب ایک گروہ اکٹھا ہو جاتا تھا تو حضرت اقدس محمد مصطفی ا یہ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ جس کے گھر دو کا کھانا ہو وہ تیسرے کو ساتھ لے جائے اس طرح یہ مہاجرین مختلف گھروں میں بٹتے رہے لیکن کچھ ایسے تھے جن کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی ، وہ رفتہ رفتہ اسی مسجد میں ہی بسیرا کر گئے اور ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے ستر یا بعض کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ہوگئی۔شان نزول تو اصحاب الصفہ ہی ہیں لیکن قرآن کریم کی آیات کو کسی شان نزول کی حدود میں محصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دائمی کلام ہے اور تمام عالم پر اثر انداز ہے اس لئے شانِ نزول تک قرآن کریم کی آیات کے مضامین کو محدود کرنا یہ خود محدود عقل کی علامت ہے اور قرآن کریم کی شان کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگ یہ رجحان رکھتے ہیں کہ شانِ نزول بیان کی اور معاملے کو وہیں ختم کر دیا گویا کہ ہر آیت اپنی شان نزول کے ساتھ مقید ہو کر ماضی کا حصہ بن چکی ہے یہ درست نہیں ہے۔شان نزول کچھ بھی ہو آیات اپنے اندر اس بات کی قوی گواہی رکھتی ہیں کہ ان کا اطلاق وسیع تر ہے اور آئندہ آنے والے زمانوں پر بھی ہوتا چلا جائے گا۔مثلاً یہی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ که جابہل ان کو تعفف کی وجہ سے غنی شمار کرتا ہے۔اب جہاں تک اصحاب الصفہ کا تعلق ہے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہوسکتا تھا جو اصحاب الصفہ کو فنی شمار کرتا