دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 193 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 193

193 خطبه جمعه فرموده ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت تلاوت فرمائی:۔لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِيْمُهُمْ ۚ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافَا وَ مَا تُنْفِقُوا وَمَا مِنْ خَيْرِ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (البقره:۲۷۴) پھر فرمایا:۔پیشتر اس سے کہ میں خطبہ کا مضمون شروع کروں جو دوست مسجد میں حاضر ہیں ان سے درخواست ہے کہ وہ مہربانی فرما کر ذرا آگے کو کھسک آئیں کیونکہ باہر سردی زیادہ ہے اور بہت سے دوست باہرسردی میں بیٹھے ہوں گے نماز کے لئے اگر ان کو باہر جانا پڑے تو دوبارہ جاسکتے ہیں۔باہر اعلان کروا دیا جائے یا دوست سن ہی رہے ہوں گے۔بہر حال جو بھی باہر سردی میں مشکل محسوس کرتے ہوں گے وہ اندر تشریف لے آئیں۔امید ہے کچھ نہ کچھ جگہ نکل آئے گی (حضور انور نے حاضرین کو آگے آگے ہونے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا) اور آگے آجائیے۔آپ ذرا آگے کی طرف سرکیس قریب آجا ئیں۔مسجد میں گنجائش نکل آئی ہے۔نماز کے لئے ضرورت ہوگی تو چند منٹوں کے لئے وہ نماز کے لئے باہر تشریف لے جائیں۔باقی خطبہ اندر آ کر سن سکتے ہیں۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورۃ البقرہ کی آیت ۲۷۴ ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ان فقراء کے لئے یہ خدمتیں اور یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے جو خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے اور ایسے گھیرے میں ہیں کہ جس کے نتیجہ میں باہر نکل کر کسب معاش ان کے لئے ممکن نہیں اور وہ زمین میں کھلا پھر نہیں سکتے۔اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جانہیں سکتے يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ جاہل ان کو امیر سمجھتا ہے۔بے ضرورت سمجھتا ہے مِنَ التَّعَفُّف کیونکہ انہیں مانگنے کی عادت نہیں۔کسی داود دوسرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تَعْرِفُهُمْ بِمُهُم یعنی اے محمد ! تو ان کی علامتوں