دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 180 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 180

180 اور ان کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد یعنی مردوں کو میں نے دیکھا ہے اور دور دور کے رشتہ دار اور مداح ایک جمگھٹ بنا کر ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں بہت ہی محبت اور تعریف کی نظر سے ان کو دیکھ رہے ہیں۔جو پگڑی انہوں نے پہنی ہوئی ہے وہ مجھے تو بہت خوبصورت لگ رہی ہے اور باقی ان کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ نہیں اس طرح نہیں آپ اس طرح باندھیں۔کوئی کہتا ہے اس طرح نہیں اس طرح باندھیں۔تو میں چوہدری صاحب کو کہتا ہوں کہ چوہدری صاحب آپ تو مجھے اس میں اتنے اچھے لگ رہے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں آپ کو کبھی ایسا لگتا نہیں دیکھا تھا اور چوہدری صاحب یہ کہتے ہیں اور بغیر آواز کے بھی مسلسل ان کے دل کی یہ آواز سنائی دے رہی ہے کہ باقی سب مشورے دینے والوں کو کہتے ہیں تم جو مرضی (مشورے) دو میں تو وہی مانوں گا جو مجھے یہ کہے گا اور کسی کی بات نہیں مانی۔بار بار ان کے دل سے جس طرح خوشبو اٹھتی ہے اس طرح یہ آواز اٹھکر مجھ تک پہنچتی ہے اور میں بھی بڑے اطمینان اور محبت سے ان کو دیکھتا ہوں کہ اللہ نے خاص اخلاص ان کو بخشا ہے قطعاً کوئی پرواہ نہیں کر رہے کہ کتنے مداح ہیں کس طرح تعریفیں کر رہے ہیں اور کیسے کیسے مشورے دے رہے ہیں لیکن یہی کہتے جارہے ہیں کہ میں تو وہی مانوں گا جو یہ کہے گا۔چنانچہ اس کی اور بہت سی مبارک تعبیریں ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ باہر کے احمدی Industrialists کو قادیان جا کر خدمت کی توفیق ملے گی اور دوسرے اس میں یہ پیغام ہے کہ برکت اسی میں ہوگی جو خلیفہ کی مرضی کے ماتحت کام ہو، اس کی خوشنودی کے مطابق ہو، اور اپنے طور پر یا اپنے حوالی حواشی وغیرہ کے ساتھ ان کے مشوروں پر چل کر خود کوشش کرو گے تو وہ خدا کے نزدیک مقبول کوشش نہیں ہوگی۔پس یہ ایک تعبیر ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون سے تعلق رکھتی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں اور تمام دنیا کے احمدی تاجروں اور صنعت کاروں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اگر اس نیت سے کہ قادیان جو حضرت اقدس مسیح موعود اللہ کی پیدائش اور روحانی پیدائش کا مقام ہے اس کی خاطر وہ اپنی توفیق کے مطابق کچھ خدمت کا حصہ لیں تو قادیان کی بہت سی رونقیں بحال ہوسکتی ہیں جن کا مرکز سلسلہ کے آخری قیام سے گہرا تعلق ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ایک لمبا عرصہ محنت کا کام ہے۔مسائل بہت سے ہیں جوڈوبے پڑے ہیں آپ کو دکھائی نہیں دے رہے مگر بہت مسائل ہیں جن پر نظر پڑتی ہے تو خطرہ