دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 176 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 176

176 خواہشات اور تمنائیں ہیں جیسے میں ان کو سمجھتا ہوں اسی طرح خدا کی تقدیر ظاہر ہوگی۔یہ طریق درست نہیں ہے یہ ایک بچگانہ طریق ہے۔اس لئے سب سے پہلے تو جماعت کو اپنی امیدوں اور امنگوں کی صحت کا خیال رکھنا چاہئے اور ان کو رستے سے بدکنے اور بھٹکنے نہیں دینا چاہئے۔راستے وہی معتین ہیں جو خدا تعالیٰ کی تقدیر میں مقدر ہیں اور جن کی خوشخبریاں اللہ تعالیٰ پہلے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرما چکا ہے۔ان کی روشنی میں مختلف تعبیریں ہوتی رہتی ہیں۔مختلف تعبیریں ہو سکتی ہیں اور اس ضمن میں بھی بہت سے خوش فہم لوگ اپنے دل کی تعبیروں کو زبردستی ان الہامات اور پیشگوئیوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو پھر لوگوں سے شرطیں بھی باندھ بیٹھتے ہیں کہ جو تعبیر ہم نے کبھی ہے ویسا ضرور ہوگا۔یہ درست طریق نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا واقعہ آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے منع فرمایا کہ جو خدا کی تقدیر ہے وہ تو ظاہر ہو گی۔خوشخبریاں تو بہر حال پوری ہونی ہیں لیکن اپنی مرضی سے ایک تعبیر کر کے اس پر تم شرطیں باندھ بیٹھو کہ یہ ضرور ہوگا یہ درست نہیں ہے لیکن جو ہونا ہے اس کی تیاری تو ہم پر فرض ہے میں اس ضمن میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک شخص نے حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم سے قیامت کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ مراد یہ تھی کہ اگر تمھیں دوسری دنیا میں جانے کا شوق ہے تو یہ شوق ایک بیرونی شوق بھی ہو سکتا ہے، ذاتی دلچپسی نہیں بلکہ تعجب کے رنگ میں استعجاب کے رنگ میں انسان دلچسپی لے سکتا ہے اور یہ دلچسپی بے معنی اور بے حقیقت ہے۔اگر دوسری زندگی کو حقیقت جانتے ہو اور شوق اس لئے ہے کہ تمہیں پتہ لگے کہ تمہاری بہبود کس چیز میں ہے اور مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے تو پھر تمہیں اس کی تیاری کرنی چاہئے اور یہی مضمون ہے جو آج کے حالات پر صادق آتا ہے۔مستقبل کے متعلق بعض لوگ شوق سے، یا ذرا الکل پہنچ کے ذریعہ انسان پیش خبریاں کرتا ہے یا آئندہ زمانے کو دیکھنا چاہتا ہے، ویسے دلچسپی لیتے ہیں ایسی دلچسپی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔نفس کا ایک بچگانہ کھیل ہے اس سے زیادہ اس کے کوئی بھی معنی نہیں لیکن مستقبل میں ایک دلچپسی ایسی ہے جو زندگی کے اعلیٰ مقاصد سے تعلق رکھتی ہے۔ایک انسان اپنے تن من دھن کو