دورۂ قادیان 1991ء — Page 174
174 میں کہیں دکھائی نہیں دے گا۔پس ان معنوں میں آپ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ آپ ہی حضرت اقدس محمد مصطفی علی کی اس عظیم الشان عارفانہ تعریف کے مستحق اور اس تعریف کے نتیجہ میں آئندہ دنیا کے سردار بننے والے ہیں کیونکہ آپ کے اندر یہ دونوں صلاحیتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔جہاں تک آئندہ زمانے کے حالات کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلسہ ایک تاریخ ساز جلسہ تھا۔محض تاریخی جلسہ ہی نہیں تھا۔کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود کی بہت کی پیشگوئیاں اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان پیشگوئیوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جلسہ کے بعد خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کی ہوا چلائے گا اور ہر طرف غیر معمولی ترقی کے سامان پیدا ہوں گے۔اس ضمن میں ایک خوشخبری تو ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہی وہاں مل گئی۔خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سکھر کے دو اسیران راہِ مولیٰ لمبی مشقتوں اور دُکھوں کے بعد آزاد کئے گئے۔آج صبح ہی کراچی میری بات ہوئی تو وہاں سے مجھے بتایا گیا کہ اللہ کے فضل سے یہاں تو جماعت میں ایک جشن کا سا سماں تھا اور بہت ہی عزت اور محبت سے جماعت نے ان سے سلوک کیا اور غیر معمولی خوشیوں کے سامان تھے تو یہ بھی اسی مقدس جلسہ کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے۔اور اس یقین دہانی کے لئے کہ خدا کی طرف سے خاص تقدیر کے طور پر یہ نشان ظاہر ہوا ہے۔جب میں آج دفتر میں ڈاک دیکھنے گیا تو گوٹھ علم دین سندھ سے آئے ہوئے ایک خط میں ایک خواب درج تھی۔یہ گوٹھ علم دین کنری ضلع تھر پارکر کے قریب ایک گاؤں ہے جہاں ابتداء میں کچھ احمدی ہوئے تھے اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اور غیر معمولی خواہش کے نتیجہ میں کہ میں خود وہاں جاؤں۔بہت پہلے کی بات ہے میں کنری سے وہاں گیا اور وہاں لمبی مجلس لگی اور اللہ کے فضل سے تقریباً سارے گاؤں کو ہی احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔تو اس پہلو سے اس گاؤں کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور میں پوچھتا رہتا ہوں۔تو جانے سے پہلے میں نے کسی احمدی دوست کو ایک خط لکھا تھا اور پرانی باتیں یاد کرا کے اور بعض پرانے نام لے کر اپنا محبت بھرا پیغام بھیجا تھا اس کے جواب میں ان کا خط آیا ہوا تھا اور خاص بات انہوں نے دیکھی کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ہمارے سکھر کے اسیر آزاد ہو گئے ہیں اور اللہ کے فضل سے بہت خوشی کا سماں ہے اور میرے پاس بھی وہ تشریف لاتے ہیں تو ایک مہینے کے