دورۂ قادیان 1991ء — Page 173
173 مہمان بھی تھے اور میزبان بھی بن گئے تھے اور ہر موقع پر جب بھی ان کی خدمت کی ضرورت پیش آئی ہے انہوں نے بڑے شوق اور ولولے کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔اس سلسلہ میں اڑیسہ کی جماعت کرناٹک کی جماعت اور کیرلہ کی جماعت کشمیر کی جماعت، آندھراپردیش کی جماعت، پنجاب کی اور دہلی کی جماعتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں ان سب جماعتوں میں بہت ہی ولولہ اور جوش پایا جاتا ہے۔دہلی کے قیام کے دوران کیونکہ مقامی سیکیورٹی کی ضروریات کے لئے دہلی کی مقامی جماعت میں کافی افراد نہیں تھے اس لئے وہاں آندھراپردیش کے نو جوانوں نے بہت ہی خدمت کی ہے۔دہلی والوں نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اسی طرح کشمیر اور دوسری جگہوں سے آنے والے افراد کو بھی خدا نے توفیق بخشی۔غرضیکہ اس جلسہ میں کام کرنے والے اور خادم اور مخدوم دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل جل گئے تھے کہ میرے اور تیرے کی تمیز ممکن نہیں رہی۔ہر شخص میزبان بھی تھا اور مہمان بھی تھا اور یہ ایک ایسا بھر پور جذبہ تھا جو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ ہی کا اعجاز ہے اور ساری دنیا میں آپ تلاش کر کے دیکھ لیں ، چراغ لے کے ڈھونڈیں آپ کو ایسی جماعت دنیا کے پردے میں کہیں نظر نہیں آئے گی جو خدا کے فضل کے ساتھ اس طرح گہرے باہمی محبت کے رشتوں میں منسلک ہو کہ خادم اور مخدوم کی تمیز اٹھ جائے۔ہر شخص خادم بھی ہو اور ہر شخص مخدوم بھی ہو۔اس پہلو سے جب میری نظر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی وآلہ وسلم کے اس ارشاد پر پڑتی ہے کہ سید القوم خادمهم ( الجهاد ابن المبارک کتاب الجہاد حدیث نمبر : ۲۰۹) تو اس کی ایک نئی تفسیر سامنے ابھرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ قوم کا سردار وہی ہوتا ہے جو قوم کا خادم ہو۔سردار کے لئے خادم ہونا ضروری ہے اور قوم کے لئے ضروری ہے کہ خادم ہی کو اپنا سردار بنایا کرے۔یہ دونوں پیغام ہیں لیکن جماعت احمدیہ پر جس شان کے ساتھ اس مضمون کا اطلاق ہوتا ہے اس سے میرے ذہن میں یہ بات ابھری کہ اس دنیا کے آپ ہی خادم ہیں اور آپ ہی مخدوم ہیں کیونکہ یہ دونوں صلاحیتیں یکجا طور پر جماعت احمدیہ کے سوا دنیا کی کسی اور جماعت میں اکٹھی نہیں مل سکتیں۔آپ نظر دوڑا کر دیکھیں مسلمان ہوں یا غیر مسلم ہوں۔ترقی یافتہ مغربی اقوام ہوں یا پیچھے رہ جانے والی مشرقی اقوام کسی مذہب سے تعلق رکھنے والی ہوں، کسی جغرافیائی حدود سے تعلق رکھنے والی ہوں ، یہ اعلیٰ شان کا امتزاج کہ خادم مخدوم ہو جائے اور مخدوم خادم بن جائے ، یہ جماعت احمدیہ کے سوا دنیا