دورۂ قادیان 1991ء — Page 171
171 صاحب نے بہت ہی غیر معمولی خدمت کی ہے۔اس کے علاوہ مجھے یہاں مرکزی مددگار کی ضرورت تھی جو صاحب تجر بہ بھی ہو اور دیگر کاموں سے الگ رہ کر مسلسل ہندوستان اور قادیان سے متعلق مسائل میں میری مدد کر سکے اور مجھ سے ہدایات لے اور اُن پر عمل درآمد کروائے۔اس سلسلہ میں بھی آفتاب احمد خان صاحب کو غیر معمولی مؤثر قابل تعریف خدمت کا موقع ملا اور میرا بہت سا بوجھ بٹ گیا اور مسائل آسان ہوئے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کو بات سمجھائی جائے تو تجربہ کار آدمی بھی اس میں کہیں نہ کہیں سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں اور بار بار پوچھنے اور نگرانی کے باوجو دستم رہ جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے United Kingdom کے امیر صاحب کو یہ ملکہ عطا فرمایا ہے کہ وہ ایک ہی دفعہ بات سمجھ کر اس کے تمام پہلوؤں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے ہیں اور پھر ان کو عملدرآمد کے سلسلہ میں یاددہانی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اگران کاموں میں مجھے بار بارالجھنا پڑتا تو کام اتنا زیادہ تھا کہ میرے لئے مشکل پیش آسکتی تھی مگر خدا نے بہت فضل فرمایا اور ایک اچھا مددگار اور نصیر مجھے عطا کر دیا۔پاکستان سے چوہدری حمید اللہ صاحب اور میاں غلام احمد صاحب نے بڑے لمبے عرصہ تک بہت محنت کی ہے اور قادیان جا کر وہاں کے مسائل کو سمجھا اور میری ہدایات کے مطابق ہر قسم کی تیاری میں بہت ہی عمدہ خدمات سرانجام دی ہیں ورنہ قادیان کی احمدی آبادی اتنی چھوٹی ہے کہ ان کے بس میں نہیں تھا کہ اتنے بڑے انتظام کو سنبھال سکتے۔تمام مردوزن عورتیں بچے ملا کر اس وقت کل ۰۰۸۱ کی تعداد میں قادیان میں درویش اور بعد میں آنے والے بس رہے ہیں اور اتنا بڑا جلسہ جس میں تقریباً ۴۲ ہزار مہمان شرکت کر رہے تھے اسے سنبھالنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔خصوصاً اس لئے بھی قادیان کی وہ آبادی جو مرکزی حصہ میں آباد ہے اس کے پاس مکان بھی بہت تھوڑے ہیں اور باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں کے لئے رہائش کی سہولتیں مہیا کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔اس ضمن میں انگلستان ہی کے ایک اور مخلص خادم چوہدری عبدالرشید صاحب آرکیٹیکٹ اور ان کے ساتھیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ان کو بھی دعا میں یا درکھنا چاہئے کیونکہ تعمیری کاموں میں انہوں نے بہت ہی محنت سے اور شوق اور ولولے سے حصہ لیا ہے۔بہت قیمتی وقت خرچ کر کے میری ہدایت پر قادیان بھی بار بار جاتے رہے اور تعمیری منصوبہ بندی میں