دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 170 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 170

170 خطبہ جمعہ (فرموده ۱۷ جنوری ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد اور تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔الحمد للہ کہ قادیان کے تاریخی اور تاریخ ساز سوسالہ جلسہ میں شمولیت کے بعد ہمارا وفد خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بخیر و خوبی اس عارضی دار ہجرت میں واپس پہنچ چکا ہے۔یہ جلسہ بہت ہی مبارک تھا، بہت سی برکتیں لے کر آیا اور بہت سی برکتیں حاصل کرنے والا تھا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس جلسہ کی برکات اور اس کے بعد اتر نے والے اللہ کے فضل ہماری اگلی صدی کے گھروں کو بھر دیں گے اور اس کے بہت دور رس نتائج ظاہر ہوں گے۔اس سلسلہ میں میں مختلف پہلوؤں سے جماعت کو آگاہ کر چکا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی اس نئی صورتحال میں کیا کیا ذمہ داریاں ہیں۔مختصراً لبعض امور سے متعلق آج بھی میں اس مسئلہ پر گفتگو کروں گا لیکن اس سے پہلے میں ان تمام احباب جماعت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس۔جلسہ کو کا میاب بنانے میں بھر پور محنت اور اخلاص اور لگن اور وفا کے ساتھ حصہ لیا اور غیر معمولی قربانی کا مظاہرہ کیا۔کچھ کام کرنے والے تو ایسے تھے جو لمبے عرصہ سے قادیان کے اس جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے منصوبے بھی بنارہے تھے ، ان پر عمل درآمد کرنے میں بھی حصہ لے رہے تھے اور کافی لمبے عرصے تک کی یہ خاموش خدمت اس جلسہ کی کامیابی پر منتج ہوئی ہے اور خدمت کرنے والے بعد میں شامل ہوئے۔قافلہ در قافلہ خدمت کرنے والوں کا ہجوم بڑھتا رہا لیکن آغاز میں کچھ ایسے افراد کو خدمت کا موقع ملا ہے جو ایک لمبے عرصہ سے مسلسل بڑی محنت اور توجہ اور حکمت کے ساتھ اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ان میں سب سے پہلے تو United Kingdom کے امیر آفتاب احمد خان صاحب کا نام قابل ذکر ہے۔ان کو بھی احباب اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔بیرونی دنیا سے جس حد تک ہندوستان پر اثرات مترتب ہو سکتے تھے ان کو منظم کرنے میں اور ان کو بروئے کار لانے میں آفتاب احمد خان