دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 164 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 164

164 کیس کے لئے ان کی طرف سے پیش ہونا تھا۔مکرم سید علی احمد طارق صاحب نے اپنی تیاری کی اور محترم چوہدری احمد مختار صاحب مرحوم امیر جماعت کراچی کو کیس کی تمام تفاصیل بتا کر دعا کی درخواست کی۔۱۳ جنوری کی صبح مکرم طارق صاحب ہائی کورٹ میں پیش ہونے کیلئے گھر سے نکلے تو سید ھے مکرم امیر صاحب مرحوم کے پاس گیسٹ ہاؤس میں پہنچے اور دعا کی درخواست کی۔مکرم امیر صاحب مرحوم نے استفسار کیا کہ کیس پیش کرنے پر کتنا وقت لگے گا۔انہوں نے بتایا کہ دودن یا شاید اس سے بھی زیادہ وقت لگ جائے۔بہر حال مکرم طارق صاحب عدالت کی طرف روانہ ہو گئے۔مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو انہوں نے بتانا شروع کیا کہ یہ کیس خالصة بدنیتی پر مبنی ہے۔جو فرد جرم ان پر عائد کی گئی ہے اسمیں ایک ذرہ بھی سچائی نہیں اور یہ مقدمہ سراسر ظالمانہ اور جھوٹا ہے۔ابتدائی دو گھنٹے صرف اسی بحث میں صرف ہو گئے اور ابھی یہ بات جاری ہی تھی کہ فاضل جج صاحب نے کہا "طارق صاحب ! بس کرو اس سے زیادہ بد نیتی ممکن نہیں اور ہم مختصر حکم کے ذریعہ قیدیوں کی رہائی کا حکم دیتے ہیں۔اور ساتھ ہی فاضل حج صاحب نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : '' تم ایسے کیس کو ڈیفینڈ کرو جو سراسر بدنیتی پر مبنی ہے۔ہم اس کی آپ کو اجازت نہیں دیتے۔“ سبحان اللہ کیسا عجیب مگر مبنی بر انصاف فیصلہ ہوا۔طارق صاحب کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ حج صاحب نے کیا کہہ دیا ہے۔عدالت سے فارغ ہوتے ہی دوڑے اور مکرم چوہدری احمد مختار صاحب مرحوم امیر کراچی کو یہ خبر سنائی۔امیر صاحب نے پوچھا کہ فیصلہ کہاں ہے اس پر پریشان ہوئے کہ وہ تو خوشی میں عدالت سے حاصل کرنا بھول ہی گیا ہوں۔چنانچہ دوبارہ عدالت میں گئے اور فیصلہ کی نقل لے کر امیر صاحب کے پاس پہنچے۔مکرم امیر صاحب جماعت کراچی نے فوراً ٹیلیفون پر پیارے آقا کو اسیرانِ راہِ مولا کی رہائی کی خوشخبری سنانے کیلئے دہلی فون کیا۔حضور اس وقت قادیان سے دہلی کے سفر کے لئے روانہ ہوکر امرتسر کے اسٹیشن کی انتظار گاہ میں تشریف فرما تھے۔اسلئے آپ کو براہِ راست یہ پیغام نہ مل سکا لیکن چند لمحوں بعد دہلی سے یہ اطلاع آپ تک پہنچ گئی جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔