دورۂ قادیان 1991ء — Page 11
11 کے لئے لاہور ضرور جانا چاہئے۔کیونکہ قادیان سے بیرونی دنیا کے تعلقات منقطع ہیں اور ہم ہندوستان کی حکومت سے کوئی بھی بات نہیں کر سکے حالانکہ ہمارا معاملہ اس سے ہے لیکن لاہور اور دہلی کے تعلقات ہیں۔تار اور فون بھی جا سکتا ہے۔ریل بھی جاتی ہے اور ہوائی جہاز بھی جاسکتا ہے۔میں مان نہیں سکتا کہ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال صاحب پر یہ امر کھولا جائے کہ ہماری جماعت مذہباً حکومت کی وفادار جماعت ہے تو وہ ایسا انتظام نہ کریں کہ ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی جو ہمارے اردگر درہتے ہیں حفاظت نہ کی جائے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے۔بعض لوگ حکام پر یہ اثر ڈال رہے ہیں کہ مسلمان جو ہندوستان میں آئے ہیں ہندوستان سے دشمنی رکھتے ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ادھر اعلان ہوا اور ادھر فساد شروع ہو گیا۔ورنہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ مسلمان مسٹر جناح کو اپنا سیاسی لیڈر تسلیم کرنے کے باوجود ان کے اس مشورہ کے خلاف جاتے کہ اب جو مسلمان ہندوستان میں رہ گئے ہیں انہیں ہندوستان کا وفادار رہنا چاہئے۔غرض ساری غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ یکدم فسادات ہو گئے اور صوبائی حکام اور ہندوستان کے حکام پر حقیقت نہیں کھلی۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی جگہ جانا چاہئے جہاں سے دہلی وشملہ سے تعلقات آسانی سے قائم کئے جاسکیں۔اور ہندوستان کے وزراء اور مشرقی پنجاب کے وزراء پر اچھی طرح سب معاملہ کھولا جاسکے۔اگر ایسا ہو گیا تو وہ زور سے ان فسادات کو دُور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح لاہور میں سکھ لیڈروں سے بھی بات چیت ہوسکتی ہے جہاں وہ ضرورتا آتے جاتے رہتے ہیں اور اس سے بھی فساد دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ان امور کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں چند دن کے لئے لاہور جا کر کوشش کروں۔شاید اللہ تعالیٰ میری کوششوں میں برکت ڈالے اور یہ شور وشتر جو اس وقت پیدا ہو رہا ہے دُور ہو جائے۔میں نے اس امر کے مد نظر