دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 10 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 10

10 قادیان میں رسد ختم ہورہی ہے اور ہمیں پناہ گزینوں اور مقامی آبادی کو رسد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہورہا ہے۔اس کے لئے بھی مناسب انتظام ہونا چاہئے۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ کم از کم پناہ گزینوں کے لئے حکومت جنس مہیا کرے۔چونکہ سارے انتظامات کے باوجود ایک حصہ آبادی کو قادیان سے لاہور، سیالکوٹ کی طرف منتقل کرنا ہو گا اس لئے کافی تعداد میں اور تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد کنوائے کا انتظام ہونا چاہئے جس کے ساتھ مسلح گارڈ ہوں جس میں کافی حصہ بلکہ موجودہ حالات میں سالم حصّہ مسلمانوں کا ہو۔اس کنوائے کے ذریعہ قادیان کی عورتوں اور بچوں اور کمزور بیمار مردوں کے علاوہ پناہ گزینوں کو بھی باہر نکالنے کا انتظام ہوگا۔تاریخ احمدیت جلد ۱۰ صفحه: ۷۳۹،۷۳۸) اسی روز یعنی ۳۰ را گست کو مشورہ کے بعد حضرت مصلح موعود اللہ نے قیام امن کی اغراض کے لئے لاہور جانے کا پروگرام بنایا اور رات کو قادیان اور ضلع گورداسپور کی جماعتوں کے نام حسب ذیل الوداعی پیغام لکھا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد کو قادیان میں اپنے پیچھے امیر مقامی مقرر کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ آپ کے قادیان سے روانہ ہونے کے بعد یہ پیغام جماعت تک پہنچا دیا جائے۔چنانچہ حسب ہدایت امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد نے اس کی نقلیں کروا کے مغرب اور عشاء کی نمازوں میں قادیان کی تمام احمدی مساجد میں بھجوا دیں جو پڑھ کر سنادی گئیں۔پیغام یہ تھا: أعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمَ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی تمام پریذیڈشان انجمن احمد یہ قادیان و محلہ جات و دیہات ملحقہ قادیان و دیہات تحصیل بٹالہ وتحصیل گورداسپور کو اطلاع دیتا ہوں کہ متعدد دوستوں کے متواتر اصرار اور لمبے غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام امن کے اغراض کے لئے مجھے چند دن