دورۂ قادیان 1991ء — Page 9
9 قادیان میں اس وقت سات آٹھ ہزار پناہ گزین ہے جواردگرد کے مسلمان دیہاتوں سے بے خانماں ہو کر یہاں بیٹھا ہوا ہے۔اس کے لئے نہ تو حکومت کی طرف سے پناہ گزینوں کا کیمپ ہے اور نہ ان پناہ گزینوں کو دوسرے علاقہ میں منتقل کرنے کا کوئی انتظام موجود ہے۔اس کے علاوہ خود قادیان کی رہنے والی ہزاروں مستورات اور بچے ایسے ہیں جنہیں خطرے کے وقت میں دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہے۔پس اس تعلق میں دوستم کے انتظامات فوری طور پر درکار ہیں۔اوّل پناہ گزینوں کے کیمپ کا قیام۔دوسرے قادیان سے عورتوں اور بچوں اور پناہ گزینوں کو لاہور یا سیالکوٹ منتقل کرنے کا انتظام۔قادیان میں ایک عرصہ سے ریل اور تار بند ہے اور ٹیلیفون گو چند دن بند رہنے کے بعد اب کھلا ہے مگر عملاً اس کا لٹیشن نہیں ملتا اور چونکہ سٹرک کا راستہ مسافروں کے لئے بغیر انتظام کے خطرناک ہے۔اس لئے ہمارا مرکز ایک عرصہ سے باہر کے علاقہ سے بالکل کٹا ہوا ہے اور ڈاک اور اخبارات کا سلسلہ بالکل بند ہے۔ضروری ہے کہ پبلک میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے ریل اور تار کو جلد تیر کھول دیا جائے اور ٹیلیفون کے رستہ میں جو عملی روکیں ہیں کہ امرتسر کا ایکسچینج کنیکشن نہیں دیتا اُسے دُور کیا جائے۔ہمارے پاس دو جہاز تھے جن سے ہم اپنی ڈاک و تاریں لاہور بھجواتے تھے اور لاہور سے اپنی ڈاک اور تاریں منگوا لیتے تھے یا دوائیاں اور دیگر ضروریات زندگی لاہور سے منگوا لیتے تھے۔یاکسی سواری کو کسی کام پر لاہور بھجوانا ہو تو اُسے بھجوا دیتے تھے۔مگر چند دن سے مقامی افسروں نے ہمارے جہازوں پر بھی پابندی لگا دی ہے اور اب وہ لاہور میں بند پڑے ہیں۔ہمیں یہ بھی دھمکی دی جارہی ہے کہ قادیان میں جو جائز لائسینس والا اسلحہ ہے، اسے ضبط کر لیا جائیگا۔