دورۂ قادیان 1991ء — Page 149
149 اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو حضور کی طرف چھڑکا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ میں رہ گیا۔اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہو گئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے۔(تفصیل سرمہ چشم آریہ میں دیکھیں ) اس وقت حضرت مولوی عبد اللہ سنوری نے حضرت اقدس سے وہ کر تہ جس پر سرخی کے نشان پڑے تھے، مانگ کر لے لیا تھا۔حضرت مولوی عبد اللہ سنوری بیان فرماتے ہیں: اس عاجز نے وہ کر یہ جس پر سرخی گری تھی تبر کا حضرت اقدس علیہ السلام سے باصرار لے لیا ، اس عہد پر کہ میں وصیت کر جاؤں گا کہ میرے کفن کے ساتھ دفن کر دیا جائے۔کیونکہ حضرت اقدس اس وجہ سے اسے دینے سے انکار کرتے تھے کہ میرے اور آپ کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنالیں گے اور اس کی پوجا شروع ہو جائے گی۔غرضیکہ بہت رد و قدح کے بعد دیا جو میرے پاس اس وقت موجود ہے اور سرخی کے نشان اس وقت تک بلاکم وکاست بعینہ 66 موجود ہیں (افضل ۲۶ / دسمبر ۱۹۱۶ء) حضور علیہ السلام کی عائد کردہ شرائط کے مطابق یہ کرتہ حضرت مولوی صاحب کی وفات پر آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو پہنا دیا گیا اور آپ کے ساتھ ہی ۷ اکتو بر ۱۹۲۷ء بروز جمعہ بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کر دیا گیا۔اس حجرہ کے ساتھ ہی مسجد مبارک میں سے ایک دروازہ سیڑھیوں میں کھلتا ہے۔یہ سیڑھیاں نیچے اُس جگہ لے جاتی ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رشتہ داروں نے دیوار کھینچ کر مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والا راستہ بند کر کے نمازیوں اور ملنے والوں کیلئے مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ کی طرف جانے میں روک کھڑی کر دی تھی۔اس پر حضور علیہ السلام نے مقدمہ کیا جو تاریخ احمدیت میں ” مقدمہ دیوار کے نام سے مشہور ہے۔حجرہ کے ساتھ اس دروازے کے ساتھ ہی مسجد مبارک کی شمالی دیوار میں جو دروازہ کھلتا ہے وہ