دورۂ قادیان 1991ء — Page 144
144 ہو جائے تو فاصلے بہت تیزی سے کٹنے لگتے ہیں اور انسانی کوششوں سے کئی گنا زیادہ ان محنتوں کو پھل عطا ہوتا ہے جو انسان خدا کی راہ میں صرف کرتا ہے۔پس بظاہر ناممکن کام ہے لیکن ممکن ہوسکتا ہے۔پہلے بارہا ہو چکا ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی یہی ناممکن من بنادیا گیا تھا اور آج پھر اس نا ممکن کو ممکن بنانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ان غلاموں کا کام ہے، جنہوں نے آپ کی پیشگوئی کے مطابق آئے ہوئے وقت کے امام کو قبول کیا اس کی آواز کو سنا اور اس پر لبیک کہا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ اپنی اس ذمہ داری کو خوب اچھی طرح سمجھ لے گی لیکن ذمہ داری کا لفظ حقیقت میں اس صورتحال پر موزوں نظر نہیں آتا کیونکہ ذمہ داری میں ایک قسم کا بوجھ کا مضمون شامل ہے۔ذمہ داری یوں لگتا ہے جیسے کسی طالب علم کو جس کا دل پڑھنے کو نہ چاہ رہا ہو، یہ بتایا جارہا ہو کہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تعلیم حاصل کرو اس کے بغیر تم دنیا میں ترقی نہیں کر سکو گے۔ذمہ داریوں کے ان معنوں میں روحانی قومیں انقلاب برپا نہیں کیا کرتیں۔ذمہ داری کی بجائے خدا کے کام ان کے دل کے کام بن جایا کرتے ہیں۔ان کی جان کی لگن ہو جاتے ہیں۔ان کے ذہنوں کی وہ اعلیٰ مرادیں بن جاتے ہیں جن کی خاطر وہ جیتے ہیں جن کی خاطر وہ مرتے ہیں۔یہ وہ چیز ہے جو انقلاب بر پا کرنے کے لئے ضروری ہے۔پس بہتر الفاظ کی تلاش میں میں اگر چہ صحیح لفظ تلاش نہیں کرسکا،اس لئے میں نے بار بار لفظ ذمہ داری استعمال کیا ہے۔لیکن ان معنوں میں ذمہ داری نہیں جن معنوں میں قرآن کریم نے اصرا (البقرہ:۲۸۷) کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی بوجھ کے معنوں میں نہیں بلکہ ایسے اعلیٰ مقصد کے اظہار کے طور پر میں یہ لفظ بول رہا ہوں جس مقصد سے انسان کو عشق ہو چکا ہو۔جو اس کے دل کی لگن بن چکا ہو۔جیسے محبوب کے پیار کے نتیجہ میں عاشق طرح طرح کی قربانیاں کرتا ہے اور ان کے دکھ محسوس نہیں کرتا۔محسوس کرتا بھی ہے تو وہ زیادہ پسند کرتا ہے کہ وہ دکھ محسوس کرے اور اپنے محبوب کی راہ پر چلتا ر ہے بجائے اس کے کہ آرام سے اپنے گھر بیٹھ رہے یا کسی اور طرف کا رخ اختیار کرے۔پس احمدیت سے ان معنوں میں حقیقی پیار ہونا ضروری ہے کہ احمدیت کا پیغام آپ کے دلوں کی آرزو بن جائے۔آپ کی امنگیں ہو جائے ، آپ کی تمنائیں بن جائے۔وہ خواہیں بن جائے