دورۂ قادیان 1991ء — Page 141
141 نے پیش فرمایا یہی وہ تصور ہے جو حقیقی ہے، دائی ہے، جو خدا کے نزدیک معنی رکھتا ہے اس کے سوا باقی سب تصورات انسانی جذبات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔پس اگر جماعت احمد یہ چاہتی ہے اور واقعہ تمام دنیا کی جماعت یہ چاہتی ہے کہ قادیان دائی مرکز سلسلہ میں واپسی ہو تو ایسے نہیں ہوگی کہ تمام علاقہ تو احمد بیت سے غافل اور دور رہا ہواور تمام علاقہ اسلام سے نابلد اور نا واقف رہے اور ہم میں سے چند لوگ واپس آکر یہاں بیٹھ رہیں۔اس کا نام قرآنی اصطلاح میں نصرت اور فتح نہیں ہے۔اس لئے اگر کسی دل میں یہ وہم پیدا ہوا ہے تو اس و ہم کو دل سے نکال دے۔پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی اور ہندوستان کے احمدیوں کے لئے بھی میرا یہ پیغام ہے کہ آپ خدا سے وہ فتح مانگیں اُس نصرت کے طلب گار ہوں جس کا ذکر قرآن کریم کی اس چھوٹی سی سورۃ میں بڑی وضاحت کے ساتھ فرما دیا گیا۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًاتی کہ دیکھو تمہیں ایک عجیب اور ایک عظیم فتح عطا ہونے والی ہے۔تم اُن لوگوں کے گھروں پر جا کر قبضہ نہیں کرو گے۔تم لوگوں کے ممالک اور وطنوں پر جا کر فتح کے نقارے نہیں بجاؤ گے بلکہ فوج در فوج لوگ تمہارے دین میں داخل ہو نگے اور یہی وہ فتح ہے، یہی وہ نصرت ہے، جو خدا کے نزدیک کوئی قیمت اور معنی رکھتی ہے۔پس خصوصیت کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے ، ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے جسے سمجھنا اور قبول کرنا آج کے وقت کا تقاضا ہے۔آئندہ ایک سوسال محنت کے لئے تیار ہونا پڑے گا اور محنت کا آغاز کرنا ہوگا۔ایسی محنت جس کے نتیجہ میں روحانی انقلابات برپا ہونے شروع ہوں۔پاکستان میں بھی اور ہندوستان میں بھی کثرت کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پھیلے اور کثرت کے ساتھ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہو نا شروع ہوں۔یہی وہ حقیقی فتح ہے جس کے نتیجہ میں قادیان کی اس واپسی کی داغ بیل ڈالی جائے گی جس واپسی کی خوا میں آج سب دنیا کے احمدی دیکھ رہے ہیں۔لیکن وہ خوا ہیں تب تعبیر کی صورت میں ظاہر ہونگی جب ان خوابوں کی تعبیر کا حق ادا ہوگا اور خوابوں کی تعبیر بنانا اگر چہ تقدیر کا کام ہے لیکن انسانی تدبیر کے ساتھ اس کا گہرا دخل ہے اور قرآن کریم نے جوند ہی تاریخ ہمارے سامنے رکھی ہے اس میں اس