دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 139 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 139

139 خطبه جمعه فرموده ۱۰/جنوری ۱۹۹۲ء ( بمقام مسجد اقصی قادیان) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آج یہ چوتھا جمعہ ہے جو مجھے قادیان دارالامان ، جماعت احمدیہ کے مستقل مرکز میں ادا کرنے کی توفیق عطا ہورہی ہے۔یہ جلسہ جو سو سال کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس جلسے کی یا دلیکر آیا تھا جو آپ نے پہلی مرتبہ قادیان میں شروع کیا، اس بہت ہی اہم ادارے کی تقریب قائم فرمائی اور ہمیشہ کیلئے جماعت احمدیہ کے ایک جگہ اکٹھے ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی یادوں میں دن بسر کرنے کی ایک بہت ہی عمدہ سنت قائم فرمائی۔یہ ایک ایسی سنت ہے جس کا فیض آج صرف قادیان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ۱۲۶ ممالک پر ممتد ہو چکا ہے۔یہ جلسہ سالانہ جو کبھی قادیان میں ۷۵ افراد کی شمولیت کے ذریعہ شروع ہوا آج دنیا کے کم از کم ۷۵ ایسے ممالک ہیں جن میں ہزار سے بڑھ کر احمدی اپنے اپنے ملکوں کے جلسہ سالانہ میں شریک ہوتے ہیں اور وہ لنگر جس کی بنیاد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں قائم فرمائی اب ایک عالمی لنگر بن چکا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیں یہ توفیق ملے گی کہ عنقریب ۱۰۰ ممالک سے زائد ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بدلنگر جاری کر دیں۔اس جلسہ کی بہت سی برکات ہیں جو جذباتی نوعیت کی ہیں۔وہ لوگ جو اس جلسہ میں دور دور سے تکلیف اٹھا کر شریک ہوئے، جذباتی لحاظ سے وہ بہت سی دولتیں سمیٹ کر یہاں سے گئے۔ایسی کیفیات سے ہمکنار ہوئے ایسے عظیم روحانی جذبات سے لذت یاب ہوئے کہ وہ جو شامل نہیں ہو سکے وہ اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔لیکن میں آپ کو اچھی طرح اس بات سے خبر دار کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جذباتی لذتیں عارضی ہیں اور فانی ہیں اور چند دلوں اور چند سینوں سے تعلق رکھنے والی لذتیں ہیں۔درحقیقت یہ جلسه اسی وقت اور انہی معنوں میں متبرک ثابت ہوگا، اگر ہم اس کا فیض آئندہ صدی تک ممند کر دیں۔اور آئندہ سوسال کے بعد ہونے والا جلسہ آپ کی آج کی قربانیوں اور آج کی محنتوں اور آج کی کوششوں