دورۂ قادیان 1991ء — Page 8
8 جلد کافی مبلغ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔۳۔اگر میں مارا جاؤں یا اور کسی طرح جماعت سے الگ ہو جاؤں تو پہلی صورت میں فوراً خلیفہ کا انتخاب ہوا اور دوسری صورت میں ایک نائب خلیفہ کا۔۴۔جماعت با وجود ان تلخ تجربات کے شورش اور قانون شکنی سے بچتی رہے اور اپنی نیک نامی کے ورثہ کو ضائع نہ کرے۔۵۔ہمارے کاموں میں ایک حد تک مغربیت کا اثر آ گیا تھا یعنی محکمانہ کارروائی زیادہ ہوگئی تھی۔اسے چھوڑ کر سادگی کو اپنانا چاہئے اور تصوف اور سادہ زندگی اور نماز وروزہ کی طرف توجہ اور دعاؤں کا شغف جماعت میں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔۶ - قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر انگریزی و اردو جلد جلد شائع ہوں۔میں نے اپنے مختصر نوٹ بھجوا دیئے ہیں۔اس وقت تک جو تر جمہ ہو چکا ہے اس کی مدد سے اور تیار کیا جاسکتا ہے۔ترجمہ کرنے والا دُعا ئیں بہت کرے۔ے۔ان مصائب کی وجہ سے خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ جماعت کو کبھی ضائع نہ کرے گا پہلے نبیوں کو بڑی بڑی تکالیف پہنچ چکی ہیں۔عزت وہی ہے جو خدا اور بندے کے تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔مادی اشیاء سب فانی ہیں خواہ وہ کتنی ہی بزرگ یا قیمتی ہوں۔ہاں خدا تعالیٰ کا فضل مانگتے رہو شاید کہ وہ یہ پیالہ ٹلا دے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ۴۷-۸-۲۰ اگست کے آخر میں قادیان اور اس کے ماحول کی کیا کیفیت تھی اس کی تفصیل قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ﷺ کے ایک مکتوب کے درج ذیل اقتباسات سے با آسانی معلوم ہوسکتی ہے جو آپ نے حضرت مصلح موعود ﷺ کے ارشاد پر حضرت چوہدری فتح محمد سیال کے نام ۳۰ را گست ۱۹۴۷ء کو تحریر فرمایا۔آپ نے لکھا:۔