دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 125 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 125

125 اس تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ بعید نہیں کہ آئندہ چند سالوں میں وہاں جماعت کو کلی اکثریت حاصل ہو جائے۔یہ سب باتیں اپنی جگہ اطمینان بخش ضرور ہیں مگر ہندوستان کو نظر انداز کرنا ہرگز جائز نہیں تھا اور عقل کے تقاضوں کے خلاف تھا کیونکہ جو اہلیت اور صلاحیت ہندوستان میں جماعت احمدیہ کی نشو ونما کی ہے، وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔یہاں دنیا کے مختلف مذاہب آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔یہاں جو بظاہر مذہبی فسادات ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ، وہ دراصل سیاسی گروہ بندیوں کے نتیجہ میں اور چھوٹی چھوٹی چپقلشوں کے نتیجہ میں ہوتے ہیں ورنہ ہر مسلمان کو آزادی ہے کہ اپنی مساجد میں اذانیں دے جس سے چاہے اسلام کی بات کرے۔جس طرح چاہے اپنے اسلام کا اظہار کرے۔کسی فرقے پر کوئی قدغن نہیں۔یہی قادیان کی بستی ہے اس میں صبح کے وقت آپ تہجد کی نماز کی تلاوت بھی لاؤڈ سپیکر پر سنتے تھے۔یہاں بھیجن بھی ساتھ گائے جارہے تھے۔یہاں گردواروں سے تقریریں بھی کی جارہی تھیں۔میوزک بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔عیسائی بھی اپنے اپنے رنگ میں اپنے خدا کو یاد کر رہے تھے اور کبھی نہ کسی احمدی کو اس کی تکلیف ہوئی نہ کسی غیر احمدی کو نہ ہندو کو نہ سکھ کو ،سارے اس بات پر خوش تھے کہ جس کو جس طرح بھی توفیق مل رہی ہے آخر وہ خدا کو یاد کر رہا ہے۔ہمیں کیا حق ہے کہ اس پر اعتراض کریں۔یہ وہ ماحول ہے جو ہندوستان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے لئے بہت خوش آئند ہے اور اگر جماعت احمدیہ صیح طریق پر یہاں کام شروع کرے تو خدا کے فضل سے بہت تیزی کے ساتھ تمام ہندوستان میں نفوذ ہوسکتا ہے۔مسلمانوں کی راہنمائی کی ضرورت یہاں جو مسلمان لیڈرشپ ہے وہ بد قسمتی سے اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ باوجود اس کے کہ مسلمان دس کروڑ یا شاید اس سے بھی زائد ہیں۔یوں لگتا ہے کہ جیسے بے سر کا جسم ہے جو بظاہر زندہ رہ رہا ہے لیکن اس میں چھپتی نہیں ہے۔جیسے ایک سر سے اعضاء میں پچھہتی پیدا ہوتی ہے۔جیسے دماغ انگلیوں کے پوروں تک اثر دکھاتا ہے اور سارا جسم ایک جان ہو کر رہتا ہے ویسی کیفیت ہندوستان کے مسلمانوں میں دکھائی نہیں دیتی۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے لئے اور بھی ضروری ہے کہ