دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 124 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 124

124 بنانے ہیں۔کس طرح ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ان کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ اگر چہ ظاہری طور پر آپ غریب ہیں اور بڑے بڑے اُمید افزا اور تمناؤں سے بھر پور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن کھلے دل کے ساتھ خوب منصوبے بنائیں اور بالکل پرواہ نہ کریں کہ ان پر کیا خرچ آتا ہے۔عالمگیر جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے غریب نہیں ہے اور ساری عالمگیر جماعت احمد یہ آپ کی پشت پر کھڑی ہے۔تمام عالمگیر جماعت احمدیہ ہمیشہ قادیان کی ممنون احسان رہے گی اور ان درویشوں کی ممنون احسان رہے گی جنہوں نے بڑی عظمت کے ساتھ بڑے صبر کے ساتھ بڑی وفا کے ساتھ اس امانت کا حق ادا کیا جو اُن کے سپرد کی گئی تھی اور لمبی قربانیاں پیش کیں۔اسلئے آپ کو کوئی خوف نہیں ، آپ کو کوئی کمی نہیں۔اللہ کے فضل کے ساتھ جتنے مفید کارآمد منصوبے آپ بنا سکتے ہیں اور ان پر عمل کر سکتے ہیں ، انشاء اللہ تعالیٰ ان کی تمام ضرورتیں عالمگیر جماعتیں پوری کریں گی اور میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اس لحاظ سے بہت حد تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔اس میں ہم سب کا قصور ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔قادیان اور ہندوستان کا حق ہندوستان کا اپنا ایک حق تھا جسے ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے تھا۔ہندوستان وہ جگہ ہے جہاں خدا تعالیٰ نے آخرین کا پیغامبر بھیجا جو ہر مذہب کا نمائندہ بن کر آیا۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جَرِى اللهِ فِی حُلَلِ الْانْبِيَاءِ ( تذکر صفی: ۱۳) کہ ایک شخص دکھائی دیتا ہے مگر خدا کا پہلوان ہے جو تمام انبیاء کے چوغے اوڑھے ہوئے آیا ہے۔اسی میں تمہیں کرشن دکھائی دے گا ، اسی میں تمہیں بدھا دکھائی دے گا، یہ مسیح کی تمثیل بھی ہے اور مہدی بن کر بھی آیا ہے۔انبیاء سے تمام دنیا میں جتنے بھی وعدے کئے گئے تھے وہ آج قادیان کی بستی میں اس ذات میں پورے ہورہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے مامور فرمایا ہے۔پس اس پہلو سے ہندوستان کا ایک مرکزی اور دائمی حق ہے جسے نظر انداز کرنا ہماری غلطی تھی۔دیگر ممالک میں پہنچے۔افریقہ اور امریکہ اور پہین اور یورپ کے ممالک میں مساجد تعمیر کیں اور اذانیں دیں اور اسی بات پر مطمئن رہے کہ خدا کے فضل سے افریقہ کے بعض ممالک میں جماعت