دورۂ قادیان 1991ء — Page 123
123 دل چاہتا ہے کھڑکی سے چھلانگ لگادوں۔پس یہ وہ کیفیتیں ہیں جن کو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی فصاحت و بلاغت جیسا کہ حق ہے ان کو سمیٹ سکے اور ان کو زندہ جاوید تحریروں میں تبدیل کر سکے۔لیکن یہ عجیب دن تھے جو گزر گئے۔اب ہمیں آئندہ کی سوچنا چاہئے۔احمدیوں کے نئے دور کا آغاز یہ جلسہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نہ صرف ایک تاریخی جلسہ تھا بلکہ تاریخ ساز جلسہ تھا اور تاریخ ساز جلسہ ہے۔جو لطف ہم نے اٹھائے وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ زندہ رہیں گے لیکن وہ لطف اس لئے زندہ نہ رہیں کہ ہم جیسے ایک نشئی ایک نشے کی حالت میں لطف اٹھاتا ہے ویسے اس سے لطف اٹھاتے رہیں۔وہ لطف اس لئے زندہ رہنے چاہئیں تاکہ ہمیشہ ہمیں عمل کے میدان میں آگے بڑھاتے رہیں اور ہماری ذمہ داریاں ہمیں یاد کراتے رہیں اور یاد کرائیں کہ ایک نیا دور ہے جس میں احمدیت داخل ہو چکی ہے۔ترقیات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔ایسے نئے ایوان گھل رہے ہیں جن میں پہلے احمدیت نے کبھی جھانکا نہیں تھا۔چنانچہ میں یقین رکھتا ہوں کہ خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کی جماعتوں میں یہ احساس بیداری پیدا ہوا ہے اور بعض جگہ جو چھوٹی چھوٹی پژمردہ سی جماعتیں تھیں۔جن کے خطوں سے امید کی کوئی غیر معمولی کرن نظر نہیں آتی تھی۔جن کے خط کچھ بجھے بجھے ، کچھ دبے دبے ایسا منظر پیش کرتے تھے جیسے وہ احمدیت کے ساتھ زندہ ہیں اور احمدیت کے ساتھ زندہ تو رہیں گے لیکن اتنے کمزور ہیں کہ وہ احمدیت کی زندگی سے اپنے ما حول کو زندہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اب جو لوٹے ہیں تو ان کی کیفیت یکسر بدل چکی تھی۔ان میں سے بہت تھے جنہوں نے مجھ سے کہا کہ اب زندگی کا ایک بالکل نیا دور شروع ہوا ہے۔اب آپ دیکھیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کس طرح ہندوستان میں چاروں طرف احمدیت کا نور پھیلائیں گے۔اب گزشتہ زمانوں اور آئندہ زمانوں میں ایک نمایاں فرق پڑ چکا ہے اور یہ جلسہ اس کی حد فاصل ہے۔پس اس پہلو سے یہ جلسہ ایک تاریخ ساز جلسہ ہے۔میری دعا ہے کہ ان کے ولولے ہمیشہ زندہ رہیں۔جہاں تک منصوبوں کا تعلق ہے ان کو تفصیل کے ساتھ سمجھا دیا گیا ہے کہ کس طرح منصوبے