دورۂ قادیان 1991ء — Page 122
122 لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو اس فضا میں دم لے رہے تھے جنہوں نے ان کے جذبے،ان کے ولولے دیکھے وہ کسی طرح بھی بیان کی حد میں نہیں آسکتے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں نے کیا پایا اور کیا لے کر لوٹے ؟ مگر میں یہ یقین رکھتا ہوں اور اس میں مجھے ذرہ بھی شک نہیں کہ خدا کے فضل سے وہ اگر پہلے کسی لحاظ سے کمزور بھی تھے تو یہاں سے مالا مال ہو کر لوٹے ہیں اور کسی چیز کی کوئی کمی انہوں نے محسوس نہیں کی۔جلسہ میں پاکستان سے شامل ہونے والے احمدیوں کا تذکرہ اب ایک دور ہے جو شروع ہونے والا ہے۔لیکن اس سے پہلے میں پاکستان کے احمدیوں کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبے عرصہ کے بعد پاکستان کے غرباء کو بھی یہ توفیق ملی کہ وہ کسی حد تک یعنی سارے تو نہیں آسکتے تھے ناممکن تھا لیکن کسی حد تک یہاں پہنچ سکیں اور جن کے لئے انگلستان پہنچ کر ملاقات ناممکن تھی ان کو بھی خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ قریب آئیں اور یہاں سے آکر جلسہ میں شمولیت کریں۔میرے ساتھ ملاقاتیں کریں اور قریب سے دوبارہ دیکھنے کا موقع ملے۔ان کی کیفیت بھی نا قابل بیان تھی۔اکثر یہ صورت حال تھی کہ میرے ضبط کا بڑا سخت امتحان تھا۔مجھے ہمیشہ ڈر رہا کہ اگر میرا ضبط ٹوٹ گیا تو یہ لوگ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگیں گے۔میری جدائی ان پر اور بھی زیادہ سخت ہو جائے گی اور خدا کے ہاں جو علیحدگی کے بقیہ دن مقدر ہیں وہ پہلے سے زیادہ تلخ ہو جائیں گے۔اس لئے میں نے حتی المقدور کوشش کی کہ ہنستے ہوئے، مسکراتے ہوئے، ہاتھ اٹھاتے ہوئے سب کو سلام کہوں، سب کے سلام قبول کروں اور حوصلے بڑھاؤں لیکن جو دل کی کیفیت تھی خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔بڑے سخت امتحان سے گزرنا پڑا۔ان کے آنے کے نظارے بھی عجیب تھے۔ان کی واپسی کے نظارے بھی عجیب تھے۔ایک موقع پر میری بچیاں بسوں کی رخصت کا منظر دیکھنے کے لئے گئیں۔ہمارے خاندان کے بھی بہت سے لوگ اس میں جارہے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ سب لوگ کھڑکیوں سے اُلٹے پڑتے تھے۔گویاوہ زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے نہیں جانا۔ہم نہیں جانا چاہتے۔چنانچہ میری بچی نے اپنی کسی عزیزہ سے پوچھا کہ تم کیوں الٹ رہی ہو تو اس نے کہا۔یہاں سے جانے کو دل نہیں چاہتا۔