دورۂ قادیان 1991ء — Page 118
118 اور اس غفلت کی حالت کو قرآن کریم نے خسران کی حالت بیان فرمایا ہے۔وَالْعَصْرِ ) اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرِ وہ زمانہ گواہ ہے، اس زمانے کی قسم کہ اس وقت کا انسان گھاٹے میں ہوگا۔یعنی تمام کا تمام انسان گھاٹے میں ہوگا۔اِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ سوائے ان چند لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ اور حق بات کی نصیحت کی وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) (العصر :۴۰۲) صبر کے ساتھ صبر کی نصیحت کی اسمیں ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ یہ جماعت جس کا یہاں ذکر ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہے جس کا آغاز قادیان کی اسی بستی میں آج سے تقریباً سو سال پہلے ہوا تھا۔پس امن عالم کے حصول کے لئے اگر چہ ہماری طاقتیں بہت محدود ہیں اور إِلَّا الَّذِيْنَ کی ذیل میں ایک مختصر سے گروہ کے طور پر ہمارا ذکر ہوا ہے۔اگر چہ اتنی تھوڑی تعداد کے لئے بظا ہر ممکن نہیں کہ وہ تمام عالم کے گھاٹے کو نفع میں تبدیل کر دے۔مگر قرآن کریم نے جو نسخہ عطا فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اگر وہ ایمان پر قائم رہیں۔نیک اعمال کے ساتھ چمٹے رہیں اور وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ خواہ کوئی سنے یا نہ سنے حق بات کی نصیحت کرتے رہیں۔حق بات کی نصیحت حق طریق پر کرتے رہیں اور صبر کی نصیحت کرتے رہیں اور صبر کے طریق پر نصیحت کرتے رہیں۔یہ وہ نسخہ ہے جو قرآن کریم نے تمام عالم کے گھاٹے کو نفع میں تبدیل کرنے کا پیش فرمایا ہے۔خدا کرے ہمیں اس کی توفیق ملے۔بعض دفعہ ایک نسل کو اپنی زندگی میں ایک انقلاب کا منہ دیکھنے کی توفیق مل جاتی ہے۔بعض دفعہ دونسلوں کو یکے بعد دیگرے انقلابات کے کچھ حصے دیکھنے کی توفیق ملتی ہے لیکن ہمارا سفر لمبا ہے۔احمدیت کو آئے ہوئے آج تک سو سال سے کچھ زائد عرصہ گزرا کئی نسلیں ہماری گزر چکی ہیں اور ابھی ہم نے لمبا سفر طے کرنا ہے۔یہی حکمت ہے کہ صبر پر اتنا زور دیا گیا۔وہ لوگ جو صبر کی توفیق نہیں رکھتے اگر ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے کا میابی دکھائی نہ دے تو وہ حو صلے ہار بیٹھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کی پیروی کا کوئی فائدہ نہیں۔جاں کا زیاں ہے اور کوششوں کا نقصان ہے۔لیکن وہ لوگ جو خدا کی خاطر کوشش کرتے ہیں وہ اپنے مقصد کو اپنی آخری صورت میں نہ بھی حاصل کر سکیں تو درحقیقت ان کا ایک مقصد ہرلمحہ پورا ہوتا