دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 104 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 104

104 تھے، اس لئے ان کی جگہ پر ان کے بھائی مکرم افضال احمد رؤف صاحب نے ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۱۰) مکرم ڈاکٹر حامد محمود صاحب ابن مکرم ایم کے ملک صاحب آف راولپنڈی بی۔ڈی۔ایس کے فائنل امتحان ۱۹۸۴ء میں پشاور یو نیورسٹی میں دوئم آئے۔انہوں نے حضور سے اپنا ٹیفکیٹ وصول کیا۔(11) مکرم سید غلام احمد فرخ صاحب ابن مکرم سید میر محمود احمد صاحب ناصر آف ربوه انٹرمیڈیٹ کے فائنل امتحان ۱۹۸۵ء میں سرگودھا بورڈ میں سوئم آئے۔چونکہ وہ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت نہ کر سکے ، اس لئے ان کے والد محترم نے ان کی جگہ پر سر ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۱۲) مکرم بشارت احمد صاحب ابن مکرم محمد یوسف صاحب آف چک نمبر ۹۶ گ۔ب ضلع فیصل آباد ایم۔اے تاریخ کے امتحان ۱۹۸۷ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دوئم آئے۔موصوف چونکہ خود جلسہ سالانہ میں شامل نہیں تھے ، اس لئے ان کی جگہ پر ان کے ماموں مکرم حکیم دین محمد صاحب نے سر ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۱۳) مکرم محمد انور ندیم صاحب ابن مکرم محمد اسلم شریف صاحب آف ملتان ایم اے ایجو کیشن کے فائنل امتحان ۱۹۸۹ء میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں دوئم آئے۔موصوف چونکہ جلسہ سالانہ میں شمولیت نہ کر سکے اس لئے ان کی جگہ پر ان کے چچا مکرم حافظ محمد اکرم صاحب نے سر ٹیفکیٹ وصول کیا۔اس تقریب کے بعد مکرم عطا الواحد صاحب ( کینیڈین احمدی) نے کینیڈا کے وزیر اعظم Rt۔Hon۔M۔Brain Mulroney اور کینیڈا کے صوبہ Ontario کے وزیر اعلیٰ کے پیغام پڑھ کر سنائے جو انہوں نے عالمگیر جماعت احمدیہ کے صد سالہ تاریخی جلسہ سالانہ قادیان کے انعقاد پر ارسال کئے تھے۔وزیراعظم کینیڈا نے اپنے پیغام میں کہا: جماعت احمدیہ کا صد سالہ جلسہ سالانہ جو قادیان میں منعقد ہو رہا ہے اس تاریخی موقع پر میں بڑی خوشی اور مسرت کے ساتھ نیک خواہشات کا پیغام بھجوا رہا ہوں۔حال ہی میں جماعت احمدیہ نے بڑی کامیابی کے ساتھ اپنی صد سالہ جو بلی بھی منائی تھی۔