دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 4 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 4

4 اس رویا میں ان۔اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الرابع کو جماعت کی نمائندگی کا ملنا، جماعت کی امامہ یعنی ردائے خلافت آپ کو عطا ہونے کی طرف واضح اشارہ تھا۔۲:۔اس مجلس میں مختلف انبیاء علیہم السلام کا جمع ہونا اور حضرت مسیح موعود اللﷺ کے جلو میں آنا آپ کا واذَا الرُّسُلُ أقتْ ) اور جب سب رسول اپنے وقت مقررہ پر لائے جائیں گے ) اور حَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلل الانبياء ( خدا تعالیٰ کا پہلوان سب انبیاء کے لباس میں ) کا مصداق ہونے کی طرف اشارہ تھا۔:۔حضرت مسیح موعود کا مشرقی جانب رخ کرنا ، پیشگوئیوں کے مطابق مسیح کے مشرقی جانب سے نزول کی نشاندہی کے طور پر تھا۔۴۔حضرت مسیح موعود اللہ کا امام کے طور پر اس طرح بیٹھنا کہ سب انبیاء علیہم السلام آپ کے اردگرد مقتدیوں کی طرح بیٹھے ہوئے تھے، اس اظہار کے لئے تھا کہ سب انبیاء کی امتیں آپ کی بیعت میں داخل ہونگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فر مایا ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی۔“ (تجلیات الہیہ ) ۵:۔دورِ خلافت رابعہ میں جہاں مختلف انبیاء علیہم السلام کی قوموں میں سے لوگوں کے احمدیت کی طرف رجوع کرنے کی پیشگوئی کا علم ہوتا ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مختلف قومیں قادیان میں واپسی کے واقعہ میں بھی شامل ہونگی۔چنانچہ عرب و عجم کی بیسیوں اقوام کے لوگوں نے اس صد سالہ جلسہ قادیان میں شمولیت اختیار کی۔:۔الغرض اس رویا میں یہ پیشگوئی بالکل واضح تھی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمدرحمہ اللہ کے دور خلافت میں قادیان میں خلیفتہ اسیح کا ورود ممکن ہوگا اور امن وسلامتی اور خیر وعافیت کے ماحول میں ہوگا۔سوالحمد للہ ثم الحمد للہ کہ حضور کی اس مبارک اور جامع رؤیا میں مضمر پیشگوئیاں اپنی تمام جزئیات کے ساتھ پوری ہوئیں اور تاریخ عالم میں ایک ہی بار رونما ہونے والا واقعہ یعنی خلیفہ مسیح کا قادیان سے ہجرت اور تقسیم ملک کے بعد قادیان واپسی کا پہلا سفر ظہور میں آیا۔خاکسار ہادی علی چوہدری