دورۂ قادیان 1991ء — Page 3
3 کہ اس دور میں آنحضرت نتالیہ کی نمائندگی حضرت مسیح موعود ال کر رہے ہیں ، اس لئے آنحضرت ہ تشریف نہیں لائے۔وہاں میں حیران ہوں کہ جماعت میں سے مجھے کیوں نمائندگی ملی ہے اور میرے علاوہ اور کسی کو نہیں ملی۔پس میں حضرت مسیح موعود کو تلاش کرنے لگتا ہوں اور ان انبیاء سے بھی ملتا ہوں۔یہ ایک بے حد خوشی کا ماحول ہے اور اس مجلس میں ایک عجیب شانِ دلربائی ہے کہ جو دنیا میں کہیں اور دکھائی نہیں دیتی۔سارے انبیاء ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔جیسے خوشی کی تقریب میں ایک دوسرے سے ملا جاتا ہے۔میں حضرت مسیح موعود ال کو تلاش کرتا ہوں اور کوئی سوال کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود ا مجھے مسجد مبارک کے مشرقی برآمدے کے بیرونی در کے قریب مل جاتے ہیں اور یہ محسوس کر کے کہ میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔آپ مشرقی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں جس طرح نماز کے بعد امام مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتا ہے اور ہم حلقہ کی صورت میں سب حاضرین بیٹھ جاتے ہیں۔مسجد میں چونکہ انبیاء علیہم السلام ہی پھر رہے تھے اس لئے جو بھی حضرت مسیح موعود اللہ کے ارد گرد بیٹھے ہیں وہ غالباً ان انبیاء علیہم السلام میں سے ہی ہیں۔حضرت مسیح موعود اللہ وہاں تشریف فرما ہیں تو میں عرض کرتا ہوں کہ آپ سے خاص طور پر ایک سوال کرنے کے لئے آپ کو تلاش کر رہا تھا۔اور وہ سوال یہ ہے کہ قادیان واپسی کب ہوگی؟ تو حضرت مسیح موعود اللہ بڑے لطف کے ساتھ جبکہ آپ کے چہرے پر خاص التفات کے آثار ہیں فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اسی کی تیاری کے لئے تو ہے اور یہ سب انبیاء اسی لئے تو جمع ہیں۔اور اسی پر یہ رویا ختم ہوگئی۔تحریر کنندہ:۔خاکسار ہادی علی مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء