دورۂ قادیان 1991ء — Page 2
2 باب اول مدعائے حق تعالیٰ ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیان مدعائے حق تعالی مدعائے قادیان ایک الہی اشارہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کے ہمراہ سکندرہ ، فتح پور سیکری اور آگرہ کے سفر ۱۹۹۱ء کے دوران مکرم صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب نے خاکسار کو بتایا کہ حضور کی ایک پرانی رؤیا ہے جس میں آپ نے مسجد مبارک ربوہ میں مختلف انبیاء علیہم السلام کو دیکھا تھا۔اسی رویا میں قادیان واپسی کا ذکر بھی تھا۔حضور انور جب سفر قادیان سے واپس لندن تشریف لائے تو خاکسار نے آپ سے اس رویا کے بارہ میں ذکر کیا اور اسے قلمبند کر لینے کی درخواست کی۔آپ نے از راہ شفقت اس عاجز کی درخواست کو قبول فرمایا اور یہ رویا بیان فرمائی۔خاکسار نے حضورانور ہی کے الفاظ میں اسے قلم بند کیا۔اس پر آپ نے اپنے قلم مبارک سے تصدیق بھی فرمائی۔اس رؤیا کے تناظر میں جہاں آپ کے سفر قادیان کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے وہاں زیر نظر کتاب میں اسے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔یہ رویا آپ نے مسند خلافت پر جلوہ افروز ہونے سے کافی عرصہ پہلے دیکھی تھی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ” میں نے دیکھا کہ میں مسجد مبارک ربوہ میں جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک بہت بڑی تقریب ہو رہی ہے جس میں تمام انبیاء علیہم السلام شامل ہیں۔مجھے طبعی طور پر آنحضرت ﷺ کی تلاش ہوتی ہے کہ ایسی عظیم الشان تقریب جس میں تمام انبیاء جمع ہیں تو اس میں آنحضرت مے بھی ضرور ہوں گے۔چنانچہ میرے دل میں طبعی خواہش ہے کہ میں آپ کو دیکھوں مگر مجھے بتایا جاتا ہے