دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 219 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 219

219 بارے میں رابطہ کیا جائیگا۔7۔قادیان میں جو 32 مکانات بنانے کی سکیم ہے اسبارہ میں یہ بات مدنظر ر ہے کہ یہ سارے مکانات بیوت الحمد سکیم کے تحت نہیں بنائے جارہے ہیں۔ان میں سے بعض مکان ان فیملیوں کو آباد کرنے کے لئے استعمال کئے جاویں گے جو اس وقت خستہ مکانوں میں رہ رہے ہیں۔گویا یہ مکانات سر دست خستہ عمارات کی متبادل جگہ ہے اور پرانے ،خستہ گھروں کے بارے میں یہ فیصلہ ہے کہ ان کو مسمار کر کے وہاں نئی آبادی ہوگی۔نئی سکیم کے مطابق جو مکان تیار ہو جائیں گے انہیں جلسہ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔8۔عورتوں کے جلسہ گاہ کے لئے باغ والی جگہ ناموزوں ہے کیونکہ یہ مردانہ جلسہ گاہ سے مغرب کی طرف ہے۔اسطرح نمازوں کی ادائیگی کے وقت عورتیں امام سے آگے ہوں گی اور اسطرح نماز میں شامل نہ ہو سکیں گی۔اس لئے اس جگہ کو تبدیل کیا جائے۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے مکان والی طرف ان کے جلسہ گاہ کا انتظام ہو سکتا ہے۔اسکا جائزہ لیا جائے۔9۔ایک تجویز یہ ہے کہ سابق تعلیم الاسلام کالج کی انتظامیہ سے بات کی جائے اور مسجد نور اور کالج کے سامنے والی زمین، کھیلوں کے بڑے میدان جہاں پارٹیشن سے قبل جلسہ سالانہ ہوا کرتا تھا۔اس کے استعمال کی اجازت حاصل کی جائے۔اس جگہ کے حصول کا ایک فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسجد نور کی تزئین اور اسکی مرمت کا موقع مل جائے گا۔نیز چونکہ مہمانوں کا قیام وہاں کے قریبی سکولوں اور کالجوں میں ہوگا یہ جگہ زیادہ موزوں ہوگی۔اس کے ساتھ ہی دار السلام کو ٹھی حضرت نواب محمد علی صاحب کے استعمال کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے اور اس کی حدود میں عارضی رہائش کا بھی جائزہ لیا جائے۔بہر صورت یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ وہ جگہ جہاں گزشتہ چند جلسے ہوتے رہے ہیں وہ بہر حال چھوٹی نظر آرہی ہے۔مہمانوں کی تعداد کے مطابق نا کافی ہوگی۔10۔فرمایا ہے کہ سارے انتظامات کا ابتدائی ڈھانچہ تیار ہو جائے تو پھر مکرم منیر فرخ صاحب کو بھی ترجمہ کے لئے جائزہ لینے کے لئے قادیان بھجوایا جائے۔11۔فرمایا ہے کہ دو کی بجائے تین لنگر ہوں گے۔ایک جگہ چاول ساتھ سالن جسے پر ہیزی کھانا کہا جاتا ہے تیار ہوں۔