دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 113 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 113

113 ور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ میں دعا کرنے کیلئے گئے۔یہاں سے فارغ ہو کر راستہ میں احباب - جو کہ قطاروں میں کھڑے تھے ، مصافحہ کی سعادت بخشتے ہوئے آپ بہشتی مقبرہ سے باہر تشریف لائے اور گزشتہ روز والے راستہ پر سے ہوتے ہوئے ڈاکٹر بشیر احمد صاحب درویش کے مکان کے دروازہ پر چند منٹ رکے اور بچوں کو پیار کیا۔یہاں سے آگے چل کر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان کی کوٹھی کے قریب چونگی سے بائیں طرف مین سڑک سے ہوتے ہوئے ریلوے گیسٹ ہاؤس والی سڑک پر نکل آئے۔ریلوے روڈ پر سردار ستنام سنگھ صاحب باجوہ کی کوٹھی میں ان سے ملنے کیلئے اندر تشریف لے گئے۔ان سے ملاقات کے بعد آپ سیر کرتے ہوئے نور بلڈنگ کے نزدیک پہنچے۔تھانہ قادیان پار کرنے کے بعد دائیں جانب سے اچانک ایک ادھیڑ عمر سردار چمن سنگھ احتراماہاتھ باندھے حضور سے ملنے آئے۔آپ نے انہیں مصافحہ اور معانقہ کا شرف بخشا جس پر انہوں نے آپ سے کہا کہ ابھی آپ کا ذکر خیر ہورہا تھا۔آپ نے بڑی بندہ نوازی کی ہے۔اس پر حضور انور نے انہیں دوبارہ گلے سے لگایا اور چند باتوں کے بعد وہاں سے براستہ ریتی چھلہ محلہ احمدیہ کی جانب رخ کیا۔بازار میں جگہ جگہ مہمانان جلسہ جواب واپس تشریف لے جارہے تھے ، ان کو آپ نے شرف مصافحہ بخشا۔راستہ میں عبدالحفیظ صاحب باڈی گارڈ نے حضور انور سے حکیم سورن سنگھ صاحب (جنہوں نے کافی تعداد میں جلسہ سالانہ کے مہمان اپنے ہاں ٹھہرائے تھے) کے لڑکے کا تعارف کروایا۔آپ نے ان کو گلے سے لگالیا۔یہاں سے حضور راستہ میں کھڑے لوگوں کو سلام کرتے ہوئے دارا مسیح میں داخل ہوئے۔دس بجے سے گیارہ بجے تک آپ نے پاکستان کے مبلغین و مربیان اور جامعہ احمدیہ کے اساتذہ طلبا و معلمین وقف جدید کو ملاقات کی سعادت بخشی۔مغرب وعشاء کی نمازیں مسجد اقصیٰ میں ساڑھے چھ بجے حضور انور کی اقتداء میں ادا کی گئیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حسب ذیل دوافراد نے دستی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ا مکرم محمد عزیز صاحب ابن مکرم کریم بخش صاحب آف پونچھ ۲۔مکرم جوزف کو نڈلر صاحب ( Josef Kondler) آف جرمنی۔حضور نے انگریزی میں عہد بیعت کے الفاظ دو ہرائے۔دعا اور وتروں کی ادائیگی کے بعد